خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 380
380 $2004 خطبات مسرور پیرائے میں دوست بنا دیتی ہے۔پس ﴿وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَن کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يشَاءُ“ (البقرة: ۲۷۰) ـ (الحكم جلد ۷ نمبر ۹ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۸) جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ حکمت بھی اسے میسر آتی ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ چاہے اس لئے داعی الی اللہ کو ایک تبلیغ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کے آگے بہت جھکنے والا اور اس سے ہر وقت مد مانگنے والا ہونا چاہئے۔جب ہم اللہ تعالیٰ کی طرف کسی کو بلا رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے واسطے سے ہی سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔اس لئے دعوت الی اللہ کرنے سے پہلے بھی دعائیں کریں۔اس دوران میں بھی دعائیں کریں اور ہمیشہ بعد میں بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور ہی جھکتے رہنا چاہئے۔اور اس سے حکمت و دانائی اور اس کا فضل ہمیشہ طلب کرتے رہنا چاہئے۔اور جب اس طرح کام کو شروع کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ بے انتہا برکت پڑے گی۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجادلہ حسنہ کا مطلب کیا ہے۔فرمایا: اس کا مطلب مداہنت نہیں ہے۔یعنی خوشامدانہ طور پر بزدلی سے بات چھپائی جائے یہ نہیں ہے۔بلکہ حکمت جرات کے ساتھ بھی ہونی چاہئے۔فرمایا کہ آیت جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَن کا یہ منشاء نہیں ہے کہ ہم اس قدر نرمی کریں کہ مداہنہ کر کے خلاف واقعہ بات کی تصدیق کر لیں۔کیا ہم ایسے شخص کو جو خدائی کا دعویٰ کرے اور ہمارے رسول کو پیشگوئی کے طور پر کذاب قرار دے (نعوذ باللہ ) اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو ر کھے (نعوذ باللہ )۔راست باز کہہ سکتے ہیں؟ فرمایا ” کیا ایسا کرنا مجادلۂ حسنہ ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ منافقانہ سیرت اور بے ایمانی کا شعبہ ہے۔“ (ترياق القلوب - روحانی خزائن جلد ١٥ صفحه ٣٠٥ حاشیه۔بعض لوگ بعض دفعہ ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ہر بات میں ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں یا کہہ دیتے ہیں کہ وقت کا تقاضا تھا، ہم سمجھتے تھے کہ اس وقت ہاں میں ہاں ملانے سے ان لوگوں کے