خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 317

$2004 317 خطبات مسرور کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔اور قرآن کریم نے بیسیوں جگہ مغفرت کے مضمون کا مختلف پیرایوں میں ذکر کیا ہے، کہیں دعائیں سکھائی گئی ہیں کہ تم یہ دعائیں مانگو تو بہت سی فطری اور بشری کمزوریوں سے بچ جاؤ گے۔کہیں یہ ترغیب دلائی ہے کہ اس طرح بخشش طلب کرو تو اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنو گے۔کہیں بشارت دے رہا ہے، کہیں وعدے کر رہا ہے کہ اس اس طرح میری بخشش طلب کرو تو اس دنیا کے گند سے بچائے جاؤ گے اور میری جنتوں کو حاصل کرنے والے بنو گے۔کہیں یہ اظہار ہے کہ میں مغفرت طلب کرنے والوں سے محبت کرتا ہوں۔غرض اگر انسان غور کرے تو اللہ تعالیٰ کے پیار، محبت اور مغفرت کے سلوک پر اللہ تعالیٰ کا تمام عمر بھی شکر ادا کرتا رہے تو نہیں کر سکتا۔ہماری بدقسمتی ہوگی کہ اگر اس کے باوجود بھی ہم اس غفور رحیم خدا کی رحمتوں سے حصہ نہ لے سکیں اور بجائے نیکیوں میں ترقی کرنے کے برائیوں میں دھنستے چلے جائیں۔پس اللہ تعالیٰ سے ہر وقت اس کی مغفرت طلب کرتے رہنا چاہئے۔وہ ہمیشہ ہمیں اپنی مغفرت کی چادر میں لیٹے رکھے اور ہمیں ہر گناہ سے بچائے اور گزشتہ گنا ہوں کو بھی معاف فرما تار ہے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ رات کو پھیلاتا ہے تا کہ دن کے وقت کے گناہ کرنے والوں کی تو بہ کو قبول کرے اور دن کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کے وقت گناہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرے۔اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی کرتا رہے گا یہاں تک کہ سورج اپنے مغرب سے طلوع ہو۔(مسلم كتاب التوبة باب قبول التوبة من الذنوب یعنی یہ ناممکن ہے جب سے یہ دنیا قائم ہے اللہ تعالیٰ مغفرت کی چادر میں اپنے پاک بندوں کو نہ لپیٹتا ر ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” استغفار کے معنی یہ ہیں کہ خدا سے اپنے گزشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا۔اور آئندہ گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا۔استغفار انبیاء بھی کیا کرتے ہیں اور عوام بھی۔