خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 316 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 316

خطبات مسرور $2004 316 تشهد وتعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا سورة النساء آیت نمبر: 111) انسان کی فطرت ایسی بنائی گئی ہے کہ غلطیوں ، کوتاہیوں اور سستیوں کی طرف بہت جلد راغب ہو جاتا ہے اور اس بشری کمزوری اور فطری تقاضے کی زد میں ، اس کی لپیٹ میں ایک عام آدمی تو آتا ہی ہے جو دنیاوی دھندوں میں پڑا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف ، اس سے اپنے گناہوں کی معافی کی طرف اس کی ذرا بھی توجہ نہیں ہوتی۔لیکن نیک لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے حتی کہ انبیاء بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔لیکن جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ انبیاء اس فطرتی کمزوری اور ضعف بشریت سے خوب واقف ہوتے ہیں لہذاوہ دعا کرتے ہیں کہ یا الہی تو ہماری ایسی حفاظت کر کہ وہ بشری کمزوریاں ظہور پذیر ہی نہ ہوں“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه ٦٠٧ الحكم ١٨ / مئى ١٩٠٨ء تو جب انبیاء کی یہ حالت ہو کہ وہ ہر وقت استغفار کرنے ، ہر وقت اپنے رب سے اس کی حفاظت میں رہنے کی دعا کرتے ہیں تو پھر ایک عام آدمی کو کس قدر اس بات کی ضرورت ہے کہ اس سے جو روزانہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں غلطیاں ہوتی ہیں یا ہوسکتی ہیں ان سے بچنے کے لئے یا ان کے بداثرات سے بچنے کے لئے استغفار کرے۔اور اگر پہلے اس طرف توجہ ہو جائے تو بہت سی غلطیوں اور گناہوں سے انسان پہلے ہی بچ سکتا ہے۔پس اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہم اس طرف توجہ دیں۔اللہ تعالیٰ تو اپنے مومن بندوں کی توبہ قبول کرنے ، ان کی بخشش کے سامان پیدا