خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 298

خطبات مسرور $2004 298 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِيْنَةُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَالْبَقِيتُ الصَّلِحَتُ خَيْرٌ عِنْدَرَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْراً مَلا۔(سورة الكهف آیت نمبر:47) اس آیت کا ترجمہ ہے۔مال اور اولا دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے طور پر بہتر اور امنگ کے لحاظ سے بہت اچھی ہیں۔عموماًیہ سمجھا جاتا ہے کہ مال و دولت، جائیدادیں، فیکٹریاں، بڑے بڑے فارمز جو ہزاروں ایکڑ پہ پھیلے ہوئے ہوں ، جن پر جا گیر دار بڑے فخر سے پھر رہا ہوتا ہے اور دوسرے کو اپنے مقابلے پر یا عام آدمی کو اپنے مقابلے پہ بہت نیچ اور بیچ سمجھ رہا ہوتا ہے اور پھر اولا د جو اس کا ساتھ دینے والی ہو، نوکر چاکر ہوں یہ سب باتیں ایک دنیا دار کے دل میں بڑائی پیدا کر رہی ہوتی ہیں۔اور اس کے نزدیک اگر یہ سب کچھ مل جائے تو ایک دنیا دار کی نظر میں یہی سب کچھ اور یہی اس کا مقصود ہے جو اس نے حاصل کر لیا ہے۔اور اس وجہ سے ایک دنیا دار آدمی اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی بھلا بیٹھتا ہے۔اس کی عبادت کرنے کی طرف اس کی کوئی توجہ نہیں ہوتی۔اپنے زعم میں وہ سمجھ رہا ہوتا ہے یہ سب کچھ میں نے اپنے زور بازو سے حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا احساس دلانے کا کوئی خانہ اس کے دل میں نہیں ہوتا۔حقوق العباد ادا کرنے کی طرف اس کی ذرا بھی توجہ نہیں ہوتی اور اپنے کام کرنے والوں ، اپنے کارندوں، اپنے ملازمین کی خوشی غمی ، بیماری، میں کام آنے کا خیال بھی اس