خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 219
$2004 219 خطبات مسرور بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا اور ہمیشہ باخبر ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا کہ تمہاری چھوٹے قبیلوں یا بڑے قبیلوں میں جو تقسیم ہے یہ صرف تمہاری پہچان کے لئے ہے۔اب دیکھ لیں یہاں افریقہ میں آپ کے ملک کی طرح چھوٹے چھوٹے علاقوں کے چیف ہیں اور پھر کئی چیف کسی بڑے چیف کے ماتحت ہیں۔اور پھر یہ سب مل کر ملکی سطح پر ایک قوم ہیں۔اسی طرح دنیا کے تمام ممالک میں بھی اس طرح کی تقسیم ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جو تقسیم ہے اس کو اپنی بڑائی کی علامت نہ سمجھو۔تمہاری بڑائی بڑا قبیلہ ہونے یا زیادہ امیر ملک ہونے سے نہیں ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہی شخص ہے وہی قبیلہ یا وہی قوم ہے جو تقویٰ میں سب سے آگے ہے اور یا درکھیں کہ تقویٰ کا معیار اپنی نیکیوں کے اظہار سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو ہماری ہر حرکت اور فعل سے باخبر بھی ہے اور اس کا علم بھی رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ کو سب علم ہے کہ کون سا فعل دکھاوے کی خاطر کیا گیا ہے اور کون سا فعل اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے کیا گیا ہے۔تقویٰ کے مختصرا معنی بتاتا ہوں۔تقویٰ کا مطلب ہے نفس کو خطرے سے محفوظ کرنا اور شرعی اصطلاح میں تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ نفس کو ہر اس چیز سے بچانا جو انسان کو گناہگار بنادے۔اور یہ تب ہوتا ہے جب ممنوعہ اشیاء سے بچا جائے بلکہ اس کے لئے بعض اوقات جائز چیزوں کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔مثلاً رمضان میں پاک اور جائز چیزوں سے بھی مومن اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے رک جاتا ہے۔تو بہر حال اصل تقویٰ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بچانا جو گناہوں کی طرف لے جائے۔اور یہ ہر مسلمان کے لئے فرض ہے چاہے وہ کسی قوم کا ہو۔اللہ تعالیٰ یہ نہیں پوچھے گا کہ تم فلاں قوم کے ہو جو امیر ہے اس لئے تمہیں کچھ چھوٹ دی جاتی ہے۔یا تم فلاں قوم کے ہو جو ترقی یافتہ نہیں