خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 218
خطبات مسرور $2004 218 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: يأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَّأَنْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شَعُوْبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا إِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيْمٌ خَبِيرٌ (سورة الحجرات آیت ۱۴) اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا لفظ قرآن کریم میں اتنی بار استعمال کیا ہے کہ اس کی کوئی انتہا نہیں اور شاید ہی کوئی اور لفظ اتنی بار استعمال ہوا ہو۔مختلف پیرایوں اور مختلف شکلوں میں اس کے بارے میں توجہ دلائی گئی ہے۔بلکہ ایک مسلمان جب شادی کے بندھن میں بندھتا ہے تو اس وقت نکاح کے خطبہ میں پانچ دفعہ تقویٰ کے بارہ میں ذکر آتا ہے۔تقویٰ کی اہمیت کا اسی بات سے اندازہ کر لیں۔کیونکہ شادی میں مرد اور عورت ایک نئی زندگی کا آغاز کر رہے ہوتے ہیں اور نہ صرف مرد اور عورت ایک معاہدہ کر رہے ہوتے ہیں بلکہ دو خاندان آپس میں ایک تعلق پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔اگر تقویٰ نہ ہو تو معاشرے میں ایک فساد پیدا ہو جائے۔پھر ایک مسلمان عورت اور مرد کے ایک تعلق میں بندھنے کے نتیجہ میں نئے وجودوں کی آمد ہوتی ہے۔اگر ایک مسلمان میاں بیوی تقویٰ پر قائم نہیں رہیں گے تو آنے والی نسل کے متقی ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔تو خلاصہ یہ کہ تقومی ایک ایسی بنیادی چیز ہے جس کے بغیر خدا تعالیٰ کے ملنے اور اس سے زندہ تعلق جوڑنے کا تصور ہی غلط ہے۔آج اسی بارے میں چند باتیں کہوں گا۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔