خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 215
$2004 215 خطبات مسرور احسان جتلاوے۔مگر ان سب سے بڑھ کر ایک درجہ ہے کہ انسان ایسے طور پر نیکی کرے جو محبت ذاتی کے رنگ میں ہو جس میں احسان نمائی کا کوئی بھی حصہ نہیں ہوتا۔جیسے ماں اپنے بچے کی پرورش کرتی ہے۔جو اس پرورش میں کسی اجر اور صلے کی خواستگار نہیں ہوتی۔بلکہ طبعی جوش ہوتا ہے جو بچے کے لئے اپنے سارے سکھ اور آرام قربان کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم احسان کے اعلی خلق کو مکمل طور پر اپنانے والے ہوں اور دل کی گہرائیوں سے یہ خلق ادا کرنے والے ہوں۔ہمارا کوئی فعل کبھی بھی ایسا نہ ہو جس سے کسی بھی طرف سے کسی بھی احمدی پر یہ انگلی اٹھے کہ یہ بداخلاق اور احسان فراموش ہے۔آج کا خطبہ یہاں میں نے اُردو میں اس لئے دیا ہے کہ پاکستان کے ظالمانہ قانون نے خلیفہ وقت کی زبان بندی کی ہوئی ہے اور خلیفہ اسلام کی تعلیم جماعت کو دینے کا حق نہیں رکھتا۔یا دوسرے الفاظ میں پاکستانی احمدی کو ظالمانہ قانون کی وجہ سے خلیفہ وقت کی آواز سننے سے محروم کیا گیا ہے لیکن ان دنیا داروں کو کیا پتہ کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر ان کی تدبیروں سے بہت بالا ہے اور انہوں نے خلیفہ وقت کی آواز ایک ملک میں بند کی تھی اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کے ذریعے تمام دنیا میں یہ آواز پہنچادی ہے۔اور یہ خطبہ بھی یہاں سے تمام دنیا میں نشر ہورہا ہے۔تو بہر حال یہ پاکستانی احمدی کا حق بھی ہے اور یہ اس احسان کے شکرانے کا تقاضا بھی ہے جو پاکستانی مبلغین نے دنیا کے اس خطے میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کو پہنچا کر کیا۔پس اس احسان کا شکر ادا کرتے ہوئے جہاں ہمیں ان مبلغین کے لئے دعا کرنی چاہئے جو ابتداء میں یہاں احمدیت کا پیغام لے کر آئے۔وہاں ان کی نسلوں اور قوم کے لئے بھی دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مخالفین کے ہر شر سے محفوظ رکھے اور ان کو بھی آزادی کے دن دیکھنے نصیب کرے اور وہ بھی آپ کی طرح جلسے منعقد کرنے کے قابل ہو سکیں۔میں یہاں کی حکومت خاص طور پر صدر مملکت اور لوگوں کے پیار اور محبت کے سلوک پر ممنون احسان ہوں۔اور جَزَاكَ الله خَيْرًا کہتا ہوں۔اور یہی سب سے بڑی دعا ہے۔اور سب سے بڑھ کر میں دلی جذبات کے ساتھ اپنے پیارے احمدی بھائیوں اور بہنوں کو دعا دیتا ہوں جنہوں