خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 214
خطبات مسرور 214 $2004 مرد کو بہ نسبت عورت کے فطرتی قومی زبر دست دیئے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے مرد عورت پر حکومت کرتا چلا آیا ہے اور مرد کی فطرت کو جس قدر با اعتبار کمال قوتوں کے انعام عطا کیا گیا ہے عورت کی قوتوں کو عطا نہیں کیا گیا۔اور قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ اگر مرد اپنی عورت کو مروت اور احسان کی رو سے ایک پہاڑ سونے کا بھی دے تو طلاق کی حالت میں واپس نہ لے، اس سے ظاہر ہے کہ اسلام میں عورتوں کی کس قدر عزت کی گئی ہے۔ایک طور سے تو مردوں کو عورتوں کا نوکر ٹھہرایا گیا ہے اور بہر حال مردوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ عَاشِرُوهُنَّ بالمعروف یعنی تم اپنی عورتوں سے ایسے حسن سلوک سے معاشرت کرو کہ ہر ایک عظمند معلوم کر سکے کہ تم اپنی بیوی سے احسان اور مروت سے پیش آتے ہو“۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸۸) پھر والدین کے احسان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کے بارے میں حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔یہ اس وجہ سے کہ مشکل سے اس کی ماں نے اپنے پیٹ میں اس کو رکھا اور مشکل ہی سے اس کو جنا۔اور یہ مشکلات اس دور دراز مدت تک رہتی ہیں کہ اس کا پیٹ میں رہنا اور اس کے دودھ کا چھوٹنا ۳۰ مہینے میں جا کر تمام ہوتا ہے۔یہاں تک کہ جب ایک نیک انسان اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے تو دعا کرتا ہے کہ اے میرے پروردگار! مجھ کو اس بات کی توفیق دے کہ تو نے جو مجھ پر اور میرے ماں باپ پر احسانات کئے ہیں تیرے ان احسانات کا شکر یہ ادا کرتا رہوں اور مجھے اس بات کی بھی توفیق دے کہ میں کوئی ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو جائے۔۔(چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۰۹ حاشیه اول نیکی کرنے میں تم عدل کو ملحوظ رکھو جوشخص تم سے نیکی کرے تم بھی اس کے ساتھ نیکی کرو۔اور پھر دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اس سے بھی بڑھ کر حسن سلوک کرو۔یہ احسان ہے۔احسان کا درجہ اگر چہ عدل سے بڑھا ہوا ہے اور یہ بڑی بھاری نیکی ہے لیکن کبھی نہ کبھی ممکن ہے احسان کرنے والا اپنا