خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 17

17 $2004 خطبات مسرور اور سلیقے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں سکھائے اس لئے آپ علیہ السلام کے نسخوں پر عمل کر کے ہی ہم اس خلق کو حاصل کر سکتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ تذلل اور انکساری کی زندگی کوئی شخص اختیار نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد نہ کرے۔اپنے آپ کو ٹولو، اگر بچے کی طرح اپنے آپ کو کمزور پاؤ تو گھبراؤ ہیں۔﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴾ کی دعا صحابہ کی طرح جاری رکھو۔راتوں کو اٹھو اور دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی راہ دکھائے۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ نے بھی تدریجا تربیت پائی۔(ملفوظات جلد اول صفحه ۲۸ رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷) پھر آپ فرماتے ہیں: "عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے اس کا سیکھنا ہی کیا ہے۔انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کیلئے ہی پیدا کیا گیا ہے۔﴿مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون (الذاریات: 57 ) ( ملفوظات جلد سوم صفحه 232 البدر ۲۴ اپریل ۱۹۰۳) تو اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ عاجزی اختیار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکو ، اس کی عبادت کرو۔تو عاجزی سمیت تمام خلق پیدا ہوتے جائیں گے انشاء اللہ۔پھر آپ فرماتے ہیں: 'پانچ وقت اپنی نمازوں میں دعا کرو۔اپنی زبان میں بھی دعا کرنامنع نہیں ہے۔نماز کا مزہ نہیں آتا جب تک حضور نہ ہو اور حضور قلب نہیں ہوتا ہے جب تک عاجزی نہ ہو۔عاجزی جب پیدا ہوتی ہے جو یہ سمجھ آجائے کہ کیا پڑھتا ہے۔اس لئے اپنی زبان میں اپنے مطالب پیش کرنے کیلئے جوش اور اضطراب پیدا ہوسکتا ہے“۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحه ٤٣٤ الحكم ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۳ء) جب آدمی دعا کر رہا ہو سمجھ نہ آ رہی ہو تو عاجزی کس طرح پیدا ہوگی اگر مطلب نہ آرہا ہو۔اس لئے اپنی زبان میں دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ سے مانگیں اس کے آگے روئیں ، گڑ گڑا ئیں۔پھر آپ فرماتے ہیں انبیاء میں بہت سے ہنر ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک ہنر سلب