خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 190
$2004 190 مسرور پھر آپ فرماتے ہیں خدا کا تمہیں یہ حکم ہے کہ تم اس سے اور اس کی خلقت سے عدل کا معاملہ کرو۔یعنی حق اللہ اور حق العباد بجالاؤ اور اگر اس سے بڑھ کر ہو سکے تو نہ صرف عدل بلکہ احسان کر و یعنی فرائض سے زیادہ اور ایسے اخلاق سے خدا کی بندگی کرو گویا تم اس کو دیکھتے ہو اور حقوق سے زیادہ لوگوں کے ساتھ مروت اور سلوک کرو اور اگر اس سے بڑھ کر ہو سکے تو ایسے بے علت اور بے غرض خدا کی عبادت اور خلق اللہ کی خدمت بجالاؤ کہ جیسے کوئی قرابت کے جوش سے کرتا ہے۔(شحنه حق روحانی خزائن جلد ٢ صفحه ٣٦٢،٣٦١) ایک اور جگہ فرمایا جس طرح ماں اپنے بچے کے ساتھ کرتی ہے اس طرح کرو۔پھر آپ فرماتے ہیں غرض نوع انسان پر شفقت سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ ایک زبر دست ذریعہ ہے مگر میں دیکھتا ہوں اس پہلو میں بڑی کمزوری ظاہر کی جاتی ہے دوسروں کو حقیر سمجھا جاتا ہے ان پر ٹھیٹھے کئے جاتے ہیں ان کی خبر گیری کرنا اور کسی مصیبت اور مشکل میں مدد دینا تو بڑی بات ہے جولوگ غرباء کے ساتھ بہت اچھے سلوک سے پیش نہیں آتے بلکہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہ خود اس مصیبت میں مبتلا نہ ہو جاویں اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے ان کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں اور اس خداداد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ ڈالیں۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه ٤٣٩،٤٣٨ ـ الحكم ۱۰/ نوبمر (١٩٠٥ء اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق اس دنیا میں امن، صلح اور عدل کی فضا پیدا کرنے والے ہوں، قائم کرنے والے ہوں اور اس لحاظ سے اپنی نسلوں کی تربیت کرنے والے بھی ہوں کیونکہ آئندہ دنیا کے جو حالات ہونے ہیں اس میں احمدی کا کردار ایک بہت اہم کردار ہو گا جو اس کو ادا کرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین