خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 179

خطبات مسرور 179 $2004 تو دیکھیں کتنی خوبصورت تعلیم ہے دنیا میں انصاف اور عدل اور امن قائم کرنے کی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حق اور انصاف پر قائم ہو جاؤ۔اور چاہئے کہ ہر ایک گواہی تمہاری خدا کے لئے ہو، جھوٹ مت بولو، اگر چہ سچ بولنے سے تمہاری جانوں کو نقصان پہنچے یا اس سے تمہارے ماں باپ کو ضرر پہنچے اور قریبیوں کو۔(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحه ۵۳ بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد دوم صفحه ٢٧٤ (یعنی بچوں، بیویوں اور رشتہ داروں کو نقصان پہنچے ،تب بھی گواہی جھوٹی نہیں دینی )۔پھر آپ فرماتے ہیں۔﴿وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبِي﴾ اور جب تم بولوتو وہی بات منہ پر لاؤ جو سراسر یچ اور عدالت کی بات ہے، اگر چہ اپنے تم کسی قریبی پر گواہی دو۔یعنی انصاف قائم رکھنے کے لئے تم نے اپنا ذاتی مفاد نہیں دیکھنا۔یا اپنے عزیزوں اور قریبیوں کا مفاد نہیں دیکھنا بلکہ حق اور سچ بات کہنی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مزید کھول کر فرمایا کہ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا كُوْنُوْا قَوْمِيْنَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (سورة المائده آیت نمبر ۹) یعنی اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔اب دیکھیں اس سے زیادہ عدل و انصاف قائم رکھنے کے کون سے معیار ہو سکتے ہیں کہ دشمن سے بھی تم نے بے انصافی نہیں کرنی۔اگر تم دشمن سے بھی بے انصافی کرو گے اور عدل کے تقاضے پورے نہیں کرو گے اس کا مطلب ہے تمہارے دل میں خدا کا خوف نہیں ہے۔منہ سے تو کہہ