خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 178

$2004 178 خطبات مسرور آپ کے والد کے ساتھ مزارعین کا درختوں کا معاملہ تھا، زمین کا جھگڑا تھا، مزارعین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت دیانت، انصاف اور عدل کو دیکھتے ہوئے عدالت میں کہہ دیا کہ اگر حضرت مرزا غلام احمد یہ گواہی دے دیں کہ ان درختوں پر ان کے والد کا حق ہے تو ہم حق چھوڑ دیں گے، مقدمہ واپس لے لیں گے۔عدالت نے آپ کو بلایا، وکیل نے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ، آپ نے فرمایا کہ میں تو وہی کہوں گا جو حق ہے کیونکہ میں نے بہر حال عدل، انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔چنانچہ آپ کی بات سن کر عدالت نے ان مزارعین کے حق میں ڈگری دے دی اور اس فیصلے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس طرح خوش خوش واپس آئے کہ لوگ سمجھے کہ آپ مقدمہ جیت کر واپس آرہے ہیں۔یہ ہے عملی نمونہ جو حضرت اقدس مسیح موعود نے ہمیں اس معیار عدل کو قائم رکھنے کے لئے دکھایا۔اور آپ نے اپنی جماعت سے بھی یہی توقع رکھی ، یہی تعلیم دی کہ تم نے بھی یہی معیار قائم رکھنے ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ یہ نہ ہو کہ ایسی بات کر جاؤ جس کے کئی مطلب ہوں اور ایسی گول مول بات ہو کہ شک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حق میں فیصلہ کروالو۔اگر اس طرح کیا تو یہ بھی عدل سے پرے ہٹنے والی بات ہو گی ، عدل کے خلاف چلنے والی بات ہوگی اس لئے ہمیشہ قول سدید اختیار کرو، ہمیشہ ایسی سیدھی اور کھری بات کرو جس سے انصاف اور عدل کے تمام تقاضے پورے ہوتے ہوں ، پھر یہ عدل کے معیار اپنے گھر میں، اپنی بیوی بچوں کے ساتھ سلوک میں بھی قائم رکھو، روز مرہ کے معاملات میں بھی قائم رکھو، اپنے ملازمین سے کام لینے اور حقوق دینے میں بھی یہ معیار قائم رکھو، اپنے ہمسایوں سے سلوک میں بھی یہ معیار قائم رکھو، حتی کہ دوسری جگہ فرمایا کہ دشمن کے ساتھ بھی عدل کے اعلیٰ معیار قائم رکھو۔اللہ تعالیٰ جو تمہارے کاموں کی خبر رکھنے والا ہے تمہارے دلوں کا حال جاننے والا ہے، تمہاری نیک نیتی کی وجہ سے تمہیں اعلیٰ انعامات سے بھی نوازے گا۔