خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 173

$2004 173 مسرور پھر آپ فرماتے ہیں کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقوی کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خدو خال ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضاء ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں ان کو جہاں تک طاقت ہوٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور ناجائز مواقع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ عملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے جو انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ لِبَاسُ التَّقْوى قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے۔( جتنی طاقت ہے ان کا پابند رہے، ان کو بجالائے )۔(تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد۔سوم صفحه ٣٦٧، ٣٦٨) اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے کئے گئے تمام عہدوں پر کار بند رہنے اور ان کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور اللہ کی مخلوق سے کئے گئے تمام وعدے اور عہد بھی پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگیاں گزارنے والے ہوں۔