خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 172
$2004 172 خطبات مسرور حال زار بیان کر کے خدا کی ذات کا واسطہ دے کر ایفائے عہد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عرض کیا۔يَا رَبِّ إِنِّي نَــاشِـدٌ مُحَمَّدًا خَلْقَ أَبِيْنَا وَابِيْهِ الْاتَلَدَا یعنی اے میرے رب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا واسطہ دے کر مدد کے لئے پکارتا ہوں اور اپنے آباء اور اس کے آباء کے پرانے حلف کا واسطہ دے کر عہد پورا کرنے کا خواستگار ہوں۔تو خزاعہ سے مظلومیت کا حال سن کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بھر آیا، آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے ایفائے عہد کے جذبے سے سرشار ہو کر فرمایا کہ اے بنوخزاعہ ! یقینا یقیناً تمہاری مدد کی جائے گی، اگر میں تمہاری مدد نہ کروں تو خدا میری مدد نہ کرے۔تم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو عہد پورا کرنے والا اور باوفا پاؤ گے تم دیکھو گے کہ جس طرح میں اپنی جان اور بیوی بچوں کی حفاظت کرتا ہوں اسی طرح تمہاری حفاظت کروں گا۔(السیرۃ النبویہ لابن هشام جلد ۴ صفحه ۸۶ - مطبوعہ بیروت) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو بکر کے ساتھ کیا گیا عہد پورا فرمایا اور دس ہزارقد وسیوں کو ساتھ لے کر ان پر ہونے والے مظالم کا بدلہ لینے کے لئے نکلے اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ کی شاندار فتح عطا فرمائی۔(السیرة الحلبيه جز ۳ صفحه ۸۲ تا ٨٥- مكتبه دار احیاء التراث العربی بیروت) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان کے جان و مال اور تمام قسم کے آرام خدا کی امانت ہے۔جس کو واپس دینا امین ہونے کے لئے شرط ہے لہذا ترک نفس وغیرہ کے یہی معنے ہیں کہ یہ امانت خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے اس طور سے یہ قربانی ادا کرے اور دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایمان کے وقت اس کا عہد تھا اور جو عہد اور امانتیں مخلوق کی اس کی گردن پر ہیں ان سب کو ایسے طور سے تقویٰ کی رعایت سے بجالا وے پھر وہ بھی ایک سچی قربانی ہو جاوے کیونکہ دقائق تقوی کو انتہا تک پہنچانا یہ بھی ایک قسم کی موت ہے۔(تفسیر حضر مسیح موعود عليه السلام۔جلد سوم صفحه (۳۸۷