خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 151

$2004 151 خطبات مسرور تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہو گئے تھے اور ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ ابو بکر کے گھر سے دو وقت روٹی کھایا کرتے تھے۔حضرت ابو بکڑ نے اس کی خطا پر قسم کھائی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ۔وَاللَّهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾۔اور پھر حضرت ابوبکر نے اپنے عہد کو توڑ دیا اور بدستور اس کو روٹی جاری کر دی کھانا کھلا نا شروع کر دیا۔(ضمیمه براهین احمدیه حصه پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۸۱) پھر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئی ہیں۔بہت بری طرح ستایا گیا مگر ان کو اَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ ﴾ کا ہی خطاب ہوا۔خو داس انسان کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں ، بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا؟ ان کے لئے دعا کی۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح وسلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کر سکیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل وخوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔اب حضرت مسیح موعود کے عفو کی چند مثالیں دیتا ہوں۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوئی فرماتے ہیں۔کہ ایک عورت نے حضرت مسیح موعود کے گھر سے کچھ چاول چرائے ، چور کا دل نہیں ہوتا اس لئے اس کے اعضاء میں غیر معمولی قسم کی بیتابی اور اس کا ادھر ادھر دیکھنا بھی خاص وضع کا ہوتا ہے۔یعنی وہ چوری کر لے تو اس کے ایکشنز (Actions) اور طرح کے ہو جاتے ہیں۔کسی دوسرے تیز نظر نے تاڑ لیا اور پکڑ لیا۔وہ وہاں موجود تھا۔اس کی تیز نظر تھی اس کو شک ہوا کہ ضرور کوئی گڑبڑ ہے اور شور پڑ گیا۔اس کی بغل میں سے کوئی پندرہ سیر کے قریب چاولوں کی گھڑی نکلی اور اس کو ملامت اور پھٹکار شروع ہوگئی۔حضرت مسیح موعود بھی کسی