خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 150

$2004 150 خطبات مسرور کی تمام تر گستاخیوں اور شرارتوں کے باوجود اس کی وفات پر اس کا جنازہ پڑھایا حضرت عمرؓ کو اس بات کا بڑا غصہ تھا آپ بار بار اصرار کیا کرتے تھے کہ حضور اس کا جنازہ نہ پڑھائیں۔اور حضرت عمرؓ اس کی زیادتیاں بھی آپ کے سامنے پیش کیا کرتے تھے۔مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا اے عمر! پیچھے ہٹ جاؤ مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے استغفار کرو یا نہ کرو برابر ہے اگر تم ستر مرتبہ بھی استغفار کرو تو اللہ ان کو نہیں بخشے گا۔پھر فرمایا کہ اگر مجھے پتہ ہو کہ ستر سے زائد مرتبہ استغفار سے یہ بخشے جائیں گے تو میں ستر سے زائد بار استغفار کروں۔پھر بھی آپ نے اس کا جنازہ پڑھایا اور جنازہ کے ساتھ قبر تک تشریف لے گئے۔(بخاری کتاب الجنائز بان ما يكره من الصلاة على المنافقين۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عضو کی تو بے انتہا مثالیں ہیں کس کس کو بیان کیا جائے ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔یہ اس تعلیم کا عملی نمونہ تھا جسے لے کر آپ آئے تھے۔اس تعلیم کو آج پھر ہر احمدی نے اس معاشرے میں جاری کرنا ہے اپنے پہ لاگو کرنا ہے۔کیونکہ زمانے کے امام کے ساتھ ہم نے عہد کیا ہے کہ اس تعلیم کا عملی نمونہ بن کر دکھا ئیں گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس کی طرف جھکتے ہوئے اس طرف بہت زیادہ توجہ دیں۔درگز ر اور عفو کی عادت ڈالیں۔یہ نہیں ہے کہ چونکہ جماعت میں قضا کا یا امور عامہ کا یا اصلاح و ارشاد یا تربیت کا شعبہ قائم ہے اس لئے ضرور ان کو مصروف رکھنا ہے۔ذرا ذراسی باتوں کے جھگڑے لے کر ان تک پہنچ جاتا ہے۔میرے خیال میں تو ذراسی بھی برداشت کا مادہ پیدا ہو جائے تو آدھے سے زیادہ مسائل اور جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں گو دوسروں کی نسبت یہ جھگڑے بہت کم ہوتے ہیں۔ان میں سے بھی آدھے جھڑ سکتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود حضرت ابو بکٹر کے نمونے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی ، اس