خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 123
$2004 123 خطبات مسرور وقت ضائع نہ کیا کرو۔یہ بے ادبی کی بات ہے کہ باہر کھڑے ہو کے آوازیں دینا اور انتہائی نامناسب ہے موقع محل کے لحاظ سے بات کرنا بھی صبر میں شمار ہوتا ہے اور بے موقع اور بے محل بات کرنا بے صبری ہے اور گناہ ہے۔حدیث میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بھی کسی تکلیف دہ بات کو سن کر صبر کرنے والا نہیں یعنی اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بھی صبر کرنے والا نہیں۔کیوں؟ وہ اس طرح کہ لوگ اللہ کا شریک بناتے ہیں اور اس کا بیٹا قرار دیتے ہیں اس کے باوجود وہ انہیں رزق دیئے جاتا ہے اور عافیت دیئے جاتا ہے اور عطا کئے جاتا ہے۔(مسلم كتاب صفة المنافقين باب في الكفار) تو دیکھیں کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمام گناہ معاف کر سکتا ہوں لیکن شرک کا گناہ معاف نہیں کروں گا۔اور اس کے باوجود وہ مشرکوں کو بھی ، عیسائیوں کو بھی جنہوں نے خدا کا بیٹا بنایا ہوا ہے، رزق بھی دیتا ہے اور دوسری نعمتیں بھی ان کو عطا فرمارہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ صبر کرنے والی ذات تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔حضرت صہیب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کا تمام معاملہ خیر پر مشتمل ہے اور یہ مقام صرف مومن کو حاصل ہے اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو یہ اس پر شکر بجالاتا ہے، الحمد للہ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے تو یہ امر اس کے لئے خیر کا موجب ہوتا ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ صبر کرتا ہے تو یہ امر بھی اس کے لئے خیر کا موجب بن جاتا ہے۔(مسلم کتاب الزهد باب المؤمن امره كله خير) تو جس طرح خوشی کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اس کا شکر کرنا، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا انسان کو وارث بناتا ہے۔اسی طرح تکلیف میں صبر کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا تا ہے۔اس لئے ہر تکلیف جو مومن کو پہنچ رہی ہوتی ہے وہ اگر صابر ہے،صبر کرنے والا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے