خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 122
$2004 122 خطبات مسرور صبری دکھائی ہے۔چونکہ صبر کے اصل معنی رکنے کے ہوتے ہیں اس لئے محققین لغت نے لکھا ہے کہ الصَّبْرُ صَبْرَانِ، صَبْرٌ عَلَى مَا تَهْوِي وَ صَبْرٌ عَلَى مَا تَكْرَهُ یعنی صبر کی دو قسمیں ہیں جس چیز کی انسان کو خواہش ہو اس سے باز رہنا بھی صبر کہلاتا ہے اور جس چیز کو نا پسند کرتا ہولیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ آ جائے اس پر شکوہ نہ کرنا بھی صبر کہلاتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے کہ صبر اصل میں تین قسم کا ہوتا ہے۔پہلا صبر تو یہ ہے کہ انسان جزع فزع سے بچے۔قرآن کریم میں آتا ہے وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ (لقمان:۱۸) تجھے جو بھی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر سے کام لے یعنی جزع فزع نہ کر۔دوسرے یہ ہے کہ نیک باتوں پر اپنے آپ کو روک رکھنا یعنی نیکی کو مضبوط پکڑ لیتا۔ان معنوں میں یہ الفاظ اس آیت میں استعمال ہوئے ہیں۔فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ أَئِمًا أَوْ كَفُوْرًا﴾ (الدھر: ۲۵) اپنے رب کے حکم پر قائم رہ اور انسانوں میں سے گنہ گار اور ناشکر گزار کی اطاعت نہ کر۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس قدر احکام قرب الہی کے حصول کے لئے دیئے گئے ہیں ان پر استقلال سے قائم رہنا اور اپنے قدم کو پیچھے نہ ہٹانا بھی صبر کہلاتا ہے۔اور تیسرے معنے اس کے بدی سے رکے رہنے کے ہیں یعنی برائی سے رکے رہنے کے ہیں۔ان معنوں میں یہ لفظ اس آیت میں استعمال ہوا ہے کہ ولو أَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ۔وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔یعنی اگر وہ تجھے بلانے کے لئے گناہ سے باز رہتے اور اس وقت تک انتظار کرتے جب تک کہ تو باہر نکلتا تو یہ ان کے لئے بہت اچھا ہوتا مگر اب بھی وہ اصلاح کرلیں تو بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔(تفسیر کبیر جلد ۲ صفحه ٢٨٤ یہ جو تیسری مثال دی گئی ہے آیت کی اس سے پہلی آیت میں یہ ذکر ہے کہ لوگ آنحضرت ﷺ کو گھر سے بلانے کے لئے اونچی آواز سے گھر سے باہر کھڑے ہو کر بلاتے تھے تو اس پر یہ فرمایا کہ جب ان کے پاس وقت ہوگا کوئی ایسی ایمر جنسی نہیں ہے باہر آجائیں گے، تم بلا وجہ نبی کا