خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 115

$2004 115 خطبات مسرور مدنظر ہے تو کھل کر لکھیں اور اگر اس کی وجہ سے کوئی عہدیدار شکایت کرنے والے سے ذاتی عناد بھی رکھتا ہے، مخالفت بھی ہو جاتی ہے تو یہ معاملہ خدا پر چھوڑیں اور دعاؤں میں لگ جائیں۔اگر نیت نیک ہے تو اللہ تعالیٰ ہر شر سے محفوظ رکھے گا۔بے نام لکھنے کا مطلب تو یہ ہے کہ لکھنے والا خود خائن ہے۔پھر ایک حدیث میں روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: چار ایسی علامتیں ہیں کہ جس میں وہ ہوں وہ پکا منافق ہوگا۔اور جس میں ان میں سے ایک ہو اس میں ایک خصلت نفاق کی ہوگی سوائے اس کے کہ وہ اسے چھوڑ دے۔وہ چار باتیں یہ ہیں۔جب اسے امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرتا ہے۔جب بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے۔جب کسی سے معاہدہ کرے تو بے وفائی کرتا ہے۔اور جب کسی سے جھگڑ پڑے تو گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔(مسلم کتاب الایمان۔باب بيان خصال المنافق پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے میری طرف ایسی جھوٹی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔اور جس سے اس کے مسلمان بھائی نے کوئی مشورہ طلب کیا تو اس نے بغیر رشد کے مشورہ دیا تو اس نے اس سے خیانت کی۔(الادب المفرد صفحه ۷۵ از حضرت امام بخاری بعض دفعہ جان بوجھ کر غلط طریقے سے غلط مشورہ دے دیا جاتا ہے تو یہ بھی خیانت ہے تا کہ کسی کو نقصان پہنچ جائے۔یہ بالکل نہیں ہونا چاہئے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔اے میرے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بھوک سے جس کا اوڑھنا بچھونا بہت برا ہے اور میں پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کیونکہ یہ اندرونے کو خراب کر دیتی ہے یا اس کی چاہت برے نتائج پیدا کرتی ہے۔(نسائی کتاب الاستعاذه من الخيانة۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خائن اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔(کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۳)