خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 114 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 114

$2004 114 خطبات مسرور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے سخت خلاف تھے۔ایک اقتباس ہے علامہ شبلی نعمانی کا خیانت کے بارہ میں۔کہتے ہیں:۔” خیانت کے ایک معنی یہ ہیں کہ کسی جماعت میں شامل ہوکر خود اسی جماعت کو جڑ سے اکھاڑنے کی فکر میں لگے رہنا، چنانچہ منافقین جو دل میں کچھ رکھتے تھے اور زبان سے کچھ کہتے تھے، وہ ہمیشہ اسلام کے خلاف چھپی سازشوں میں لگے رہتے تھے مگر ان کی یہ چال کارگر نہیں ہوتی تھی اور ہمیشہ اس کا بھید کھل جاتا تھا۔فرمایا وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَى خَائِنَةِ مِّنْهُمْ (مائدہ:۳) اور ہمیشہ تو خبر پاتارہتا ہے اُن کی ایک خیانت کی۔یعنی ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر رسول کو ملتی ہی رہتی ہے۔اس حوالے سے مزید وضاحت کر دیتا ہوں۔بعض عہد یداران کی شکایت کر دیتے ہیں کہ فلاں امیر ایسا ہے، فلاں امیر ایسا ہے ، رویہ ٹھیک نہیں ہے یا فلاں عہد یدارا ایسا ہے، کوئی کام نہیں کر رہا۔اور کوئی معین بات بھی نہیں لکھ رہے ہوتے۔اور پھر خط کے نیچے اپنا نام بھی نہیں لکھتے۔تو یہ منافقت ہے۔ایک طرف تو اس عہد کے سخت خلاف ہے کہ جان قربان کر دوں گا جماعت کے لئے اور عزت بھی قربان کر دوں گا جماعت کے لئے اور دوسری طرف اپنا نام تک شکایت میں چھپاتے ہیں کہ امیر یا فلاں عہد یدار ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔اس کا مطلب یہ ہے وہ اس حدیث کی رو سے بدظنی بھی کر رہے ہیں اور تقویٰ سے بالکل عاری ہیں۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ ایسا ہی ہے تو پھر وہ شکایت کرنے والا کونسا تقویٰ سے خالی نہیں ہے۔کیونکہ اس کے دل میں امیر کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے زیادہ ہے۔اور جس کے دل میں اللہ کا خوف نہیں ہے وہ مومن بہر حال نہیں ہوسکتا۔اور اس طرح یہ اس کے علاوہ اندر ہی اندر لوگوں میں بھی شکوک پیدا کرتا ہے۔خود بھی منافقت کر رہا ہوتا ہے اور خیانت کا بھی مرتکب ہو رہا ہوتا ہے۔لوگوں کے ذہنوں کو بھی گندہ کر رہا ہوتا ہے۔اس لئے اس بارہ میں میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ بغیر نام کے کوئی درخواست کوئی شکایت کبھی بھی قابل پذیرائی نہیں ہوتی۔اور اب یہ دوبارہ بھی واضح کر دیتا ہوں۔اس لئے اگر جماعت کا درد ہے،اصلاح