خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 106
$2004 106 مسرور جب انسان کے روز مرہ کے معاملات میں دنیا داری شامل ہو جائے اور جب یہ خیال پیدا ہو جائے کہ جھوٹ، فریب اور دھوکے کے بغیر میں اپنے کاروبار میں یا کام میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔تو پھر انسان اپنے ارد گرد ایسا گروہ بنا لیتا ہے جو غلط قماش کے لوگوں کا ہوتا ہے تا کہ بوقت ضرورت ایک دوسرے کے کام آسکیں۔چنانچہ دیکھیں آج کل دنیا داروں میں ہر جگہ یہی چیز ہے۔ایسے لوگوں میں جب کوئی شخص غلط کام کرتا ہے تو صرف اپنے سردار کے پاس، اپنے سر براہ کے پاس آتا ہے۔یا ہمارے ملکوں میں زمیندارہ رواج ہے وڈیروں کے پاس چلے جاتے ہیں تا کہ وہ ان کو قانون سے بچائیں۔اور پھر یہ لوگ ان کو قانون سے بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگار ہے ہوتے ہیں۔بڑی بڑی سفارشیں کروائی جاتی ہیں۔اور جو بے چارے شریف آدمی ہوں، جن کی غلطی نہ بھی ہو اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کو پھنسا دیا جائے اور غلط قسم کے لوگوں کو بچا لیا جائے۔رشوتیں دی جاتی ہیں کہ ہمارا آدمی بچ جائے چاہے بے گناہ آدمی کو سزا ہو جائے۔حالانکہ حکم تو یہ ہے کہ اگر کوئی چور ہے، بے ایمان ہے تو تم نے کوئی سفارش نہیں کرنی۔آنحضرت ﷺ کی یہ بات پیش نظر نہیں رکھتے جب ایک عورت کی سفارش کی گئی چوری کے الزام میں تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ وہ اپنے چھوٹوں کو سزا دیا کرتی تھیں اور بڑوں کو بچالیا کرتی تھیں۔تو فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔تو یہ ہے اسوہ امانت کو صحیح طور پر ادا کرنے کا اور خیانت سے بچنے کا۔اور یہی تعلیم ہے جس کو لے کر جماعت احمد یہ کھڑی ہوئی ہے۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس معاشرہ میں بڑا پھونک پھونک کر قدم رکھے۔ہم نے معاشرہ کی برائیوں سے اپنے آپ کو بچانا بھی ہے اور اپنے اندر امانت ادا کرنے کے حکم کو جاری اور قائم بھی رکھنا ہے۔اور قرآن کریم کے اس حکم کو پیش نظر بھی رکھنا ہے کہ وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِيْنَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيْمًا﴾ (النساء: ۱۰۸)۔اور لوگوں۔