خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 75
75 $2003 خطبات مسرور ذات پر یقین کامل حاصل ہو لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارِ سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ابصار پر وہ آپ ہی روشنی ڈالے تو ڈالے۔ابصار کی مجال نہیں ہے کہ خود اپنی قوت سے 66 اسے شناخت کرلیں۔“ (البدر جلد ٢ نمبر ٤٧ مورخه ١٦ / دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۷۳) اب صفت خبیر کے بارہ میں کچھ اور آیات ہیں : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ۔وَاتَّقُوْا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (سورة الحشر : ١٩) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقینا اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اے ایمان والو خدا سے ڈرتے رہو اور ہر یک تم میں سے دیکھتا رہے کہ میں نے اگلے جہان میں کون سا مال بھیجا ہے۔اور اس خدا سے ڈرو جو خبیر اور علیم ہے اور تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے یعنی وہ خوب جاننے والا اور پر کھنے والا ہے اس لئے وہ تمہارے اعمال ہرگز قبول نہیں کرے گا اور جنہوں نے کھوٹے کام کئے انہیں کاموں نے ان کے دل پر زنگار چڑھا دیا۔سو وہ خدا کو ہر گز نہیں دیکھیں گئے“۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ٢٢٥-٢٢٦) حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ: تقویٰ اللہ اختیار کرو اور ہر ایک جی کو چاہئے کہ بڑی توجہ سے دیکھ لے کہ کل کے لئے کیا کیا۔جو کام ہم کرتے ہیں ان کے نتائج ہماری مقدرت سے باہر چلے جاتے ہیں۔اس لئے جو کام اللہ کے لئے نہ ہوگا تو وہ سخت نقصان کا باعث ہوگا۔لیکن جو اللہ کے لئے ہے تو وہ ہمہ قدرت اور غیب دان خدا جو ہر قسم کی طاقت اور قدرت رکھتا ہے اُس کو مفید اور مثمر ثمرات حسنہ بنادیتا ہے“۔حقائق الفرقان جلد ٤ صفحه ٦٦)