خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 65

$2003 65 خطبات مسرور فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی اُم القریٰ یعنی مکہ کو بڑی بڑی ظاہری حشمت والی قوموں نے تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔وہ اصحاب الفیل یعنی بڑے بڑے ہاتھیوں والے تھے لیکن پیشتر اس سے کہ وہ ان بڑے بڑے ہاتھیوں پر مکہ تک پہنچتے ، ان پر ابابیل نے جو سمندری چٹانوں کی کھو ہوں میں گھر بناتی ہیں، ایسے کنکر برسائے جن میں چیچک کے جراثیم تھے اور ساری فوج میں وہ خوفناک بیماری پھیل گئی اور آنا فانا وہ ایسی لاشوں کے ڈھیر ہو گئے جیسے کھایا ہوا ٹھوسا ہو۔ان کے جسموں کو مُر دار خور پرندے پٹک پٹک کر زمین پر مارتے تھے۔پس آئندہ بھی اگر کسی قوم نے طاقت کے پر تے پر اسلام کی یا ملکہ کی بے حرمتی کا اور تباہی کا ارادہ کیا تو وہ بھی اسی طرح تباہ کر دی جائے گی۔شق قمر پھر شق قمر کی خبر ہے۔فرمایا: ﴿ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» که ساعت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں :- آنحضرت ﷺ مکہ میں ہی تھے کہ آپ کو الہام ہوا: ﴿ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَ القَمَرُ اسلام کی ترقی کا وقت آگیا ہے اور عرب کی حکومت تباہ کر دی گئی۔چاند عرب کا نشان تھا چنانچہ جب کوئی شخص خواب میں چاند دیکھے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اُسے عرب کی حکومت کے حالات بتائے گئے ہیں۔پس چاند کے پھٹنے کے یہ معنے تھے کہ عرب کی حکومت تباہ ہو جائے گی۔اُس وقت جب آپ کے صحابہ چاروں طرف دنیا میں جان بچائے دوڑے پھرتے تھے جب رسول اللہ کا گلا گھونٹا جاتا اور آپ کی گردن میں پٹکے ڈالے جاتے تھے۔جب خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کی بھی آپ کو اجازت نہیں تھی اور جب سارا مکہ آپ کی مخالفت کی آوازوں سے گونج رہا تھا، اُس وقت محمد رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کو یہ خبر دی کہ عرب کی حکومت کی تباہی کا خدا نے فیصلہ کر دیا ہے اور اسلام کے غلبہ کا وقت آگیا ہے۔پھر کس طرح چند سال کے بعد ہی یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔قیدار کی ساری حشمت توڑ دی گئی۔اسلام کا جھنڈا بلند کر دیا گیا۔چاند پھٹ گیا۔قیامت آگئی اور ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بنادی گئی۔“ الله (دیباچه تفسیر القرآن - صفحه (۲۸۳