خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 64
$2003 64 خطبات مسرور الصُّحُفُ نُشِرَت کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔تَعْلَمُوْنَ پھر فرمایا وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا (النحل: ٩) اور گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے ) تاکہ تم ان پر سواری کرو اور (وہ) بطور زینت ( بھی ) ہوں۔نیز وہ ( تمہارے لئے وہ بھی پیدا کرے گا جسے تم نہیں جانتے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے حوالے سے سورۃ کے تعارفی نوٹ میں فرماتے ہیں: ہر قسم کے جانوروں کی تخلیق کا ذکر فرمانے کے بعد یہ عظیم الشان پیشگوئی فرمائی گئی ہے کہ اس قسم کی اور سواریاں بھی اللہ تعالیٰ پیدا فرمائے گا اور جن کا تمہیں اس وقت کوئی علم نہیں۔چنانچہ فی زمانہ ایجاد ہونے والی نئی نئی سواریوں کی پیشگوئی اس آیت میں فرما دی گئی ہے۔اب مختلف النوع قسم کی سواریاں اور پھر ان کے مختلف النوع قسم کے فیولز (Fules) ہیں جن سے یہ چلتی ہیں۔سولر انرجی (Solar Energy) سے چلنے والی سواریاں بھی ایجاد ہیں۔پھر ترقی یافتہ قوموں کے زوال کی خبر ہے۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحْبِ الْفِيْلِ۔اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيْلِ۔وَاَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ منْ سِجَيْلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاكُوْلٍ (سورة الفيل : ٢ تا ٦ ) - کیا تو نہیں جانتا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں سے کیا سلوک کیا؟ کیا اُس نے اُن کی تدبیر کورائیگاں نہیں کر دیا ؟ اور اُن پر غول در غول پرندے (نہیں) بھیجے؟ وہ اُن پر کنکر ملی خشک مٹی کے ڈھیلوں سے پتھراؤ کر رہے تھے۔ہیں اس نے انہیں کھائے ہوئے کھو سے کی طرح کر دیا۔اس کی تفسیر میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دنیاوی قوموں کی ترقی آخر اس نقطۂ عروج پر ختم ہوگی کہ وہ ساری عظیم طاقتیں اسلام کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہو چکی ہوں گی۔قرآن کریم ماضی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے