خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 576
$2003 576 خطبات مسرور پھر حضرت عبداللہ بن بسر بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا : حاسد ، چغل خور اور کا ہن مجھ میں سے نہیں اور میں ان میں سے نہیں۔پھر ایک حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو انسان کو نظر آ جاتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر وہ بھول جاتا ہے۔( یعنی بھائی کی چھوٹی سے چھوٹی برائی تو نظر آ جاتی ہے اپنی بڑی بڑی برائیاں بھی نظر نہیں آتیں )۔آج بھی دیکھ لیں چغل خور یا دوسروں کی غیبت کرنے والے، بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے والے خود ان تمام برائیوں میں بلکہ ان سے بڑھ کر برائیوں میں مبتلا ہوتے ہیں جو وہ اپنے بھائی کے متعلق بیان کر رہے ہوتے ہیں۔اور پھر ان کی بے شرمی کی یہ بھی انتہا ہے کہ ان کی برائیوں کا کھلے عام بعض لوگوں کو علم بھی ہوتا ہے پھر بھی ان کو شرم نہیں آ رہی ہوتی کہ ہم پہلے اپنی اصلاح کریں بجائے اس کے کہ اپنے بھائی کی برائیاں رہیں۔سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ اگر صحیح درد ہے معاشرے کا،معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں ، صرف مزے لینے کے لئے اور لوگوں کی ٹانگیں کھینچنے کے لئے باتیں نہیں کہ ان کو لوگوں کی نظروں سے گراؤں، افسروں کی نظروں سے گراؤں اور اپنی پوزیشن بناؤں۔تو ایسے لوگ بھی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے کہا کہ اگر تو اپنے کسی ساتھی کے عیوب بیان کرنا چاہے تو پہلے ایک نظر اپنے عیوب پر ڈال لے۔کسی کے عیب بیان کرنے سے پہلے اپنے عیبوں پر نظر ڈالو۔اسی بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک شعر میں فرمایا کہ ے بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے تو جب آپ اپنے عیب دیکھیں گے۔جو بہت دل گردے کا کام ہے، بہت کم ہیں جو اپنے عیبوں پر اس طرح نظر رکھتے ہیں جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اپنی بڑی سے بڑی برائی بھی نظر نہیں آتی۔اور اگر وہ نظر آ جائے گی تو بڑی اور چھوٹی تمام