خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 559
559 $2003 خطبات مسرور بھجوا دیا کرتے تھے۔تو یہ اسوہ حسنہ ہے ہمارے سامنے۔آج کل بہت بڑی بڑی حکومتیں معاہدے کرتی ہیں اور پھر انہیں اس طرح تو ڑ دیتی ہیں۔خاص طور پر مسلمان حکومتوں یا غریب ملکوں کے ساتھ معاہدوں کا سوال ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔اور اعتراض اسلام پر ہو رہا ہوتا ہے کہ اسلام یوں ہے اور یوں ہے۔بہر حال ان کے عمل ان کے ساتھ لیکن مسلمانوں کو بھی یہ نصیحت ہے کہ اگر تم معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہو تو تمہارے اندر منافقت کا بیج ہے اس لئے فکر کرو اور اس برائی کو اپنے اندر سے ختم کرو۔اب میں گھر کی سطح پر ، بعض رشتوں کی سطح پر معاہدے کی مثال دینا چاہتا ہوں۔شادی بیاہ کا تعلق بھی مرد اور عورت میں ایک معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے۔عورت کو حکم ہے کہ اس معاہدے کی رو سے تم پر یہ فرائض ادا ہوتے ہیں مثلاً خاوند کی ضروریات کا خیال رکھنا، بچوں کی نگہداشت کرنا، گھر کے امور کی ادائیگی وغیرہ۔اسی طرح مرد کی بھی ذمہ داری ہے کہ بیوی بچوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری اس پر ہے۔ان کی متفرق ضروریات کی ذمہ داری اس پر ہے۔اور دونوں میاں بیوی نے مل کر بچوں کی نیک تربیت کرنی ہے اس کی ذمہ داری ان پر ہے۔تو جتنا زیادہ میاں بیوی آپس میں اس معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں گے اتنا ہی زیادہ حسین معاشرہ قائم ہوتا چلا جائے گا۔لیکن بعض دفعہ افسوس ہوتا ہے بعض واقعات سن کر اور دیکھ کر کہ یہاں یورپ میں ،مغرب میں رہنے والی لڑکی کا رشتہ اگر پاکستان یا ہندوستان وغیرہ میں کہیں ہوا۔تو لڑکی نے سپانسر کر کے لڑکے کو بلوایا، شادی ہنسی خوشی چلتی رہی، بچے بھی ہو گئے۔اور جب مرد کے کاغذات مکمل ہو گئے؟ اب مجھے یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا تو غلط طریق سے لڑکیوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔تو اس طرح ایک پاکیزہ تعلق کو ایک معاہدے کو توڑنے والے بن گئے اور اکثر بنیاد،صرف بہانے ہوتے ہیں، جھوٹ پر مبنی باتیں ہوتی ہیں، اندر کچھ بھی نہیں ہوتا ، الزامات لگائے جار ہے ہوتے ہیں۔تو ایسے لوگ بھی منافقت کے زمرے میں ہی آتے ہیں اور احمدیوں کو ، ہم میں سے ہر ایک کو اس بارہ میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔پھر تیسری خصلت ہے وعدہ خلافی۔یہ بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے۔اور آج کل کے معاشرے میں حکومتوں سے لے کر نچلی سطح پر ہر جگہ اس کے نظارے دیکھنے میں نظر آتے ہیں۔اور