خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 558
$2003 558 خطبات مسرور اس میں نفاق کا ایک حصہ یا خصلت پائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے۔اور باقی کیا ہیں؟ پہلی بات یہ کہ جب وہ گفتگو کرتا ہے تو کذب بیانی سے کام لیتا ہے یعنی اس کی باتوں سے جھوٹ ظاہر ہو رہا ہوتا ہے۔دوسری بات، جب وہ معاہدہ کرتا ہے تو غداری کا مرتکب ہو رہا ہوتا ہے۔تیسرے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔اور چوتھے ، جب جھگڑتا ہے تو گالی گلوچ سے کام لیتا ہے۔اب اس حدیث پر اور غور کریں تو تمام باتیں ہی جھوٹ کے تعلق میں ہیں۔پہلی بات تو صاف کھلی ہے کہ ہر بات میں جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔بعض دفعہ بعض لوگ کھلے طور پر جھوٹ نہیں بولتے ، ایسے طریقے سے بات کو گھما پھرا کر کرتے ہیں اور پھر اس طرح اگلے آدمی کو پہنچاتے ہیں کہ سننے والا اس کا کوئی بھی مطلب نکال سکتا ہے۔اور بعض دفعہ ایسی گول مول باتیں جو ہیں، دو دلوں میں پھوٹ ڈالنے کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔لڑائیاں ہوتی ہیں اور اگر نظام جماعت یا عزیز رشته دار مل کر صلح صفائی کی کوشش کریں تو تحقیق کے بعد پتہ لگتا ہے کہ بات ہی غلط تھی۔بات ایسی ہے ہی نہیں تھی جو دوسرے کی طرف منسوب کر کے بات کی گئی۔اور جب اس بات کرنے والے کو پوچھا جائے کہ تم نے ایسے بات پہنچا کر دو فریقین میں آپس میں پھوٹ ڈلوادی ہے، لڑائی پیدا کر دی ہے تو وہ آرام سے کہہ دیتا ہے کہ میں نے تو اس طرح بات ہی نہیں کی۔میرا تو مطلب یہ تھا۔تو ایسے لوگ جو اس طرح ہوشیار بنتے ہیں اور صرف مزہ لینے کے لئے بی جمالو کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔چاہے ظاہر جھوٹ بول کر یا چھپا ہوا جھوٹ بول کر ان کو رسول خداﷺ نے منافق کا درجہ دیا ہے۔کیونکہ مومن کے لئے تو واضح طور پر قول سدید کا حکم ہے۔ایسی بات کرو جو کھلی ہو، صاف ہو، سیدھی ہو اور سمجھ آنے والی ہو، کسی قسم کا اشتباہ پیدا نہ ہوتا ہو اور کبھی اس وجہ سے، اس بات کی وجہ سے دلوں میں پھوٹ نہ پڑتی ہو۔پھر دوسری خصلت ہے نفاق کی کہ جب معاہدہ کرتے ہیں تو غداری کے مرتکب ہوتے ہیں اور معاہدے توڑتے ہیں۔آپ ﷺ کا تو یہ عمل تھا کہ بے چارے بے کس، ظلم کی چکی میں پیسے ہوئے مسلمان ، جب بھی مکہ سے مدینہ آئے تو چونکہ کفار سے ایک معاہدہ تھا کہ ایسے مسلمانوں کو واپس کر دیا جائے گا تو ان کی حالت زار کے باوجود دل پر جبر کرتے ہوئے آنحضرت مے ان کو واپس (بخاری ومسلم کتاب الایمان باب علامة المنافق)