خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 531
خطبات مسرور کی بھی۔531 $2003 تو یہ درس کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہئے۔یہ بھی تربیت کا حصہ ہے اپنی بھی اور جماعت پھر آخر میں خلاصہ دوبارہ بیان کر دیتا ہوں کہ جو باتیں میں نے کہی ہیں عہدیداران کے لئے اور یہ خلفائے سلسلہ کہتے چلے آئے ہیں پہلے بھی لیکن ایک عرصہ گزرنے کے بعد بعض باتیں یاد نہیں رہتیں۔جو نئے آنے والے عہدیداران ہوتے ہیں جو نہیں سمجھ رہے ہوتے صحیح طرح اس لئے بار بار یاد دہانی کروانی پڑتی ہے۔تو خلاصہ یہ باتیں ہیں: (۱) عہدیداران پر خود بھی لازم ہے کہ اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھائیں اور اپنے سے بالا افسر یا عہدیدار کی مکمل اطاعت اور عزت کریں۔اگر یہ کریں گے تو آپ کے نیچے جو لوگ ہیں، افراد جماعت ہوں یا کارکنان ، آپ کی مکمل اطاعت اور عزت کریں گے۔(۲) یہ ذہن میں رکھیں کہ لوگوں سے نرمی سے پیش آنا ہے۔ان کے دل جیتنے ہیں ، ان کی خوشی غمی میں ان کے کام آتا ہے۔اگر آپ یہ فطری تقاضے پورے نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے عہد یدار کے دل میں تکبر پایا جاتا ہے۔(۳)۔۔۔۔امراء اور عہدیداران یا مرکزی کارکنان یہ دعا کریں کہ ان کے ماتحت یا جن کا ان کو نگران بنایا گیا ہے، شریف النفس ہوں، جماعت کی اطاعت کی روح ان میں ہو اور نظام جماعت کا احترام ان میں ہو۔(۴) کبھی کسی فرد جماعت سے کسی معاملہ میں امتیازی سلوک نہ کریں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ بعض لوگ بڑے ٹیڑھے ہوتے ہیں۔مجھے علم ہے کہ امراء کے، عہد یداران کے، یا نظام جماعت کے ناک میں دم کیا ہوتا ہے ایسے لوگوں نے لیکن پھر بھی ان کی بدتمیزیوں کو جس حد تک برداشت کر سکتے ہیں کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر کسی قسم کا شکوہ نہ کریں، بدلہ لینے کا خیال بھی کبھی دل میں نہ آئے۔ان کے لئے دعا کریں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔(۵) پھر یہ کہ نظام جماعت کا استحکام اور حفاظت سب سے مقدم رہنا چاہئے اور اس کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہئے۔پھر کبھی اپنے گرد جی حضوری کرنے والے یا خوشامد کرنے والے لوگوں کو اکٹھا نہ ہونے دیں۔جن عہدیداروں پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہو جاتا ہے پھر ایسے