خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 482 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 482

خطبات مس $2003 482 تشھد وتعوذ کے بعد درج ذیل آیت قرآنیہ تلاوت فرمائی ﴿يَايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا إِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلَوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔۔(سورة الجمعة آيات ١١۔١٠) آج اس رمضان کا آخری جمعہ ہے جس کو جمعۃ الوداع کہنے کی ایک اصطلاح چل پڑی ہے۔غیروں میں تو خیر دین میں اتنا بگاڑ پیدا کر لیا ہے کہ وہ تو اس کو جو بھی چاہے نام دیں، اور جو بھی چاہیں عمل کریں، جس طرح جی چاہے عمل کریں اور اس کی تشریح بیان کریں، یہ ان کا معاملہ ہے۔بلکہ وہ تو اس خیال کے بھی ہیں کہ جمعتہ الوداع کے دن چار رکعت نماز پڑھ لو تو قضائے عمری ادا ہو گئی۔یعنی جتنی چھٹی ہوئی نمازیں ہیں وہ ادا ہو گئیں، تین چار رکعتوں کے بدلے میں۔اور اب نمازیں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔جو نمازیں نہیں پڑھی گئی تھیں پوری ہو گئیں۔پھر یہ سوچ کہ۔جمعہ الوداع آئے گا تو چار رکعت نماز پڑھ لیں گے، پھر چھٹی ہوگی ایک سال کی۔تو یہ کون تردد کرے کہ پانچ وقت کی نمازیں جا کے مسجد میں پڑھی جائیں۔ان کی ایسی حرکتوں پر تو اتنی حیرت نہیں ہوتی کہ انہوں نے تو یہ کرنا ہی ہے۔کیونکہ مسیح محمدی کا انکار کرنے والوں سے اس سے زیادہ توقع کی بھی نہیں جاسکتی لیکن حیرت اس بات پر ضرور ہوتی ہے کہ جنہوں نے اس زمانہ کے امام کو مانا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں داخل ہونے کا دعویٰ کر دیا اور پھر وہ اپنے دین کی حفاظت نہ کریں۔عام حالات میں اتنی پابندی سے جمعہ پر نہیں آتے جس اہتمام سے بعض لوگ، اور یہ بعض