خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 448 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 448

خطبات مسرور ہی ہاتھ میں ہے۔( آمین ) 448 $2003 پھر ایک اور دعا ہے جو آنحضرت ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر عرفات میں کی کہ: ”اے اللہ! تو میری باتوں کو سنتا ہے اور میرے حال کو دیکھتا ہے۔میری پوشیدہ باتوں اور ظاہر امور سے تو خوب واقف ہے۔میرا کوئی بھی معاملہ تجھ پر کچھ بھی مخفی نہیں ہے۔میں ایک بدحال، فقیر اور محتاج ہوں، تیری مدد اور پناہ کا طالب، سہما ہوا، اپنے گناہوں کا اقراری اور معترف ہوں۔میں تجھ سے ایک عاجز مسکین کی طرح سوال کرتا ہوں، تیرے حضور میں ایک گناہگار ذلیل کی طرح زاری کرتا ہوں۔ایک اندھے نابینا کی طرح خوفزدہ تجھ سے دعا کرتا ہوں جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہے اور جس کے آنسو تیرے حضور بہہ رہے ہیں۔جس کا جسم تیرے حضور گرا پڑا ہے اور تیرے لئے اس کا ناک خاک آلودہ ہے۔اے اللہ ! تو مجھے اپنے حضور دعا کرنے میں بد بخت نہ ٹھہرا دینا اور میرے ساتھ مہربانی اور رحم کا سلوک فرمانا۔اے وہ جوسب سے بڑھ کر التجاؤں کو قبول فرماتا ہے اور سب سے بہتر عطا فرمانے والا ہے۔(میری دعا قبول فرما)۔(الجامع الصغير للسيوطى - جز اول صفحه ٥٦ مبطوعه المكتبة الاسلامية لائلپور - المعجم الكبير للطبرانی جلد ۱۱ صفحه ١٧٤ ـ مطبوعه بيروت) اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میں اپنے پیاروں کی طرح دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور آنحضرت ﷺ کی اپنی امت کے لئے اپنے پیارے مہدی کے ماننے والوں کے لئے جو آپ نے دعائیں کی تھیں ان دعاؤں کا وارث بنائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا حقیقی عبادت گزار بندہ بنائے۔اس کی طرف جھکنے والے ہوں ، اس سے مدد طلب کرنے والے ہوں،اس کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے، فضل فرمائے اور ہمیں ہماری زندگیوں میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی فتوحات کی اور دنیا پر غالب آنے کے نظارے دکھائے۔اے اللہ ! اس رمضان کی برکات سے ہمیں بے انتہاء حصہ دے۔ہر شر سے ہمیں محفوظ رکھ اور اپنے رحمت اور فضل کی چادر میں ہمیں ہمیشہ لپیٹے رکھ۔آمین