خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 447
$2003 447 خطبات مسرور چشمہ سے اپنے کو سیراب کر سکتا ہے۔جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے یعنی صحیح جو دعا مانگنے کی جگہ ہے وہ نماز ہے جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اسے کسی بد معاشی میں میسر آ سکتا ہے بیچ ہے۔بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الہی ہے۔دعا کے ذریعہ ہی انسان خدا کے نزدیک ہو جاتا ہے اور اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔جب مومن کی دعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہو جاتا ہے تو خدا کو بھی اس پر رحم آ جاتا ہے اور خدا اس کا متولی ہو جاتا ہے۔( یعنی سب کام اس کے کرنے لگ جاتا ہے )۔اگر انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو الہی تو تی کے بغیر انسانی زندگی قطعا تلخ ہو جاتی ہے۔(الحكم جلد ۸ نمبر ۱۹ - مورخه ۱۰ - ١٧ / جون ١٩٠٤ ء صفحه ٦ـ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحه (٦٥٦ پھر آپ نے فرمایا: اگر میرے بندے میرے وجود سے سوال کریں کہ کیونکر اس کی ہستی ثابت ہے اور کیونکر سمجھا جائے کہ خدا ہے۔(خدا تعالیٰ کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں۔میں اپنے پکارنے والے کو جواب دیتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی آواز سنتا ہوں۔اور اس سے ہمکلام ہوتا ہوں۔پس چاہئے کہ اپنے تئیں ایسا بنادیں کہ میں ان سے ہمکلام ہوسکوں اور مجھ پر کامل ایمان لاویں تا کہ ان کو میری راہ ملے“۔(لیکچر لاهور صفحه ۱۳ بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحه ٦٤٩ اب ایک دعا پیش کرتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو لکھی تھی کہ یہ کریں۔فرمایا، دعا یہ ہے: اے رب العالمین ! میں تیرے احسانوں کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے۔تیرے بے غایت مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تامیں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے۔میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما، رحم فرما، رحم فرما اور دنیا و آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کیونکہ ہر ایک فضل و کرم تیرے