خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 412
412 $2003 خطبات مسرور اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں۔دعا فرما دیں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو“۔مولوی صاحب ممدوح کا صدق اور ہمت اور ان کی غمخواری اور دیانتداری جیسے ان کے قول سے ظاہر ہے اس سے بڑھ کر ان کے حال سے ان کی مخلصانہ خدمتوں سے ظاہر ہو رہا ہے اور وہ محبت اور اخلاص کے جذ بہ کاملہ سے چاہتے ہیں کہ سب کچھ یہاں تک کہ اپنے عیال کی زندگی بسر کرنے کی ضروری چیزیں بھی اسی راہ میں فدا کر دیں۔ان کی روح محبت کے جوش اور ہستی سے ان کی طاقت سے زیادہ قدم بڑھانے کی تعلیم دے رہی ہے۔اور ہر دم ہر آن خدمت میں لگے ہوئے ہیں“۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحه ۳۵ تا ۳۷) ایک معترض کے جواب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں کہ: آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک حکیم نورالدین صاحب اس جماعت میں عملی رنگ رکھتے ہیں، دوسرے ایسے ہیں اور ایسے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ آپ اس افتراء کا کیا جواب دیں گے۔میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ اُن کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیرو ان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ہاں شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص اور صلاحیت میں کم رہا ہو تو وہ شاذ و نادر میں داخل ہے۔فرماتے ہیں: ”میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں۔اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردار ہو جاؤ تو وہ دستبردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سنا تا مگر دل میں خوش ہوں“۔(سیرت المهدى حصه اول صفحه ١٦٥) یہ تو چند نمونے تھے جو میں نے پیش کئے ، حضرت اقدس مسیح موعود کی اس پیاری جماعت