خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 411
411 $2003 خطبات مسرور اس جگہ میں اس بات کا اظہار اور اس کا شکر ادا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلے میں داخل ہونے والے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے جو صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نورا خلاص کی طرح نور دین ہے۔میں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلائے کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ ادب کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔ان کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہے اس کے تصور سے قدرت الہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو ان کو میسر ہے ( یعنی جو مال ان کے قبضے میں ہے) ہر وقت اللہ اور رسول کی اطاعت کے لئے مستعد کھڑے ہیں اور میں تجربہ سے نہ صرف حسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک دریغ نہیں اور اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔ان کے بعض خطوط کی چند سطریں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں تا ان کو معلوم ہو کہ میرے پیارے بھائی حکیم نورالدین بھیروی معالج ریاست جموں نے محبت اور اخلاص کے مراتب میں کہاں تک ترقی کی ہے اور وہ سطریں یہ ہیں، لکھتے ہیں : مولانا، مرشد نا، امامنا! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عالی جناب میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا ہے وہ مطالب حاصل کروں۔اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑار ہوں۔یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میرا نہیں ، آپ کا ہے۔حضرت پیر و مرشد !میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی