خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 37

خطبات مسرور 37 $2003 ”اے میرے رب ! میں نے تجھے اختیار کیا ہے پس تو بھی مجھے اختیار کر اور میرے دل کی طرف نظر کر اور میرے قریب آجا کہ تو بھیدوں کا جاننے والا ہے اور ہر اُس چیز سے خوب باخبر ہے جو غیروں سے چھپائی جاتی ہے۔اے میرے رب ! اگر تو جانتا ہے کہ میرے دشمن بچے اور مخلص ہیں تو مجھے اس طرح ہلاک کر ڈال جیسے سخت جھوٹے ہلاک کئے جاتے ہیں۔اور اگر تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے ہوں اور تیری طرف سے بھیجا گیا ہوں تو تو میری مدد کر، تو میری مدد کے لئے کھڑا ہو کہ میں تیری مدد کا محتاج ہوں۔(اعجاز المسيح، روحانی خزائن جلد ۱۸ - صفحه ( ٢٠٣ - ٢٠٤) جماعت احمدیہ انگلستان اور ایم ٹی اے کے کارکنان آخر پر میں جماعت انگلستان اور یہاں کے مخلصین کی غیر معمولی خدمات پر ان کا دلی شکر یہ ادا کرتا ہوں۔اس پیاری جماعت نے خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہجرت کے دوران بے انتہا خدمت کی توفیق پائی۔اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے۔جہاں تک میرا علم ہے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ بھی آپ سے خوش ہی گئے ہیں۔الحمد للہ۔پھر حضور رحمہ اللہ کی وفات پر جس نظم وضبط اور جس وفا اور اخلاص اور منجھے ہوئے کارکنان کی طرح تمام عہدیداران اور کارکنان نے حالات کو سنبھالا اور اندازہ سے کئی گنا زیادہ مہمان آنے پر ان کو خوشی سے ہر سہولت جو اس موقع کی مناسبت سے دی جاسکتی تھی دی۔یہ کوئی چھوٹی چیز نہیں، ہم حیرت کی چیز نہیں۔واقعی حیرت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی اس فدائی جماعت پر، اس کے کاموں پر۔بہر حال جب نیت نیک ہو تو الہی تائیدات بھی شامل حال ہوتی ہیں۔اور ہر کارکن نے اس دوران میں الہی تائیدات کے نظارے بھی دیکھے، الحمد للہ۔اب کثرت سے لوگوں کے خطوط آرہے ہیں کہ سارے منظم انتظام کا ہماری طرف سے جماعت انگلستان کو اور ایم ٹی اے کو شکر یہ ادا کریں۔جو لوگ یہاں نہیں آسکے انہوں نے جس تفصیل سے ایم ٹی اے کے ذریعہ اپنے دلوں کی تسکین کے سامان پائے اس پر دنیا میں کروڑوں احمدی ایم ٹی اے کے کارکنان کے ممنون احسان ہیں کہ انہوں نے نہ آنے والے مجبوروں کو بھی تشنہ نہیں رہنے دیا۔میری اطلاع کے مطابق تو مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض کارکنان مسلسل ۴۸ گھنٹے تک ڈیوٹی دیتے رہے اور پھر تھوڑ اسا آرام