خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 402 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 402

402 $2003 خطبات مسرور پھر حضرت میر محمد اسحاق صاحب بھی یتیموں کی خبر گیری کی طرف بہت توجہ دیتے تھے اور دار الیتامی میں اتنے یتیم تھے، دار الشیوخ کہلاتا تھا تو ان کے بارہ میں روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ بخار میں آرام فرما رہے تھے اور شدید بخار تھا۔نقاہت تھی ، کمزوری تھی۔کارکن نے آ کر کہا کہ کھانے کے لئے جنس کی کمی ہے اور کہیں سے انتظام نہیں ہورہا۔لڑکوں نے صبح سے ناشتہ بھی نہیں کیا ہوا۔آپ نے فرمایا فورا تانگہ لے کر آؤ اور تانگے میں بیٹھ کر مخیر حضرات کے گھروں میں گئے اور جنس اکٹھی کی اور پھر ان بچوں کے کھانے کا انتظام ہوا۔تو یہ جذبے تھے ہمارے بزرگوں کے کہ بخار کی حالت میں بھی اپنے آرام کو قربان کیا اور یتیم بچوں کی خاطر گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔اور یہ ایسا کیوں نہ ہوتا۔آپ کو تو اپنے آقاملے کی یہ خوشخبری نظروں کے سامنے تھی کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا اس طرح جنت میں ساتھ ساتھ ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں ہوتی ہیں۔شہادت کی اور درمیانی انگلی آپ نے اکٹھی کی تو یہ نمونے تھے ہمارے بزرگوں کے۔پھر حضرت حافظ معین الدین صاحب کے بارہ میں روایت آتی ہے کہ آپ کو نظر نہیں آتا تھا ، آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک سرد رات میں جب کہ قادیان کی کچی گلیوں میں سخت کیچڑ تھا، بہت مشکل سے گرتے پڑتے کہیں جا رہے تھے۔ایک دوست نے پوچھا تو فرمایا بھائی یہاں ایک کتیا نے بچے دئے ہیں۔میرے پاس ایک روٹی پڑی تھی۔میں نے کہا کہ جھڑی کے دن ہیں یعنی بارش ہو رہی ہے اس کو ہی ڈال دوں۔اور یہ بھی سنت کی پیروی تھی جو حافظ صاحب نے کی کہ جانوروں پر بھی رحم کرو اور یا درکھو وہ واقعہ جب کسی کنوئیں میں اتر کر ، اپنے جوتے میں پانی بھر کر کتے کو پانی پلایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس نیکی کے عوض اسے بخش دیا۔اس پر صحابہ بہت حیران ہوئے اور پوچھا کہ کیا جانوروں کی وجہ سے بھی اجر ملے گا۔تو آپ اللہ نے فرمایا تھا کہ ہاں ہر ذی روح اور جاندار کی نیکی اور احسان کا اجر ملتا ہے۔پھر ایک واقعہ ہے ایک احمدی حضرت نور محمد صاحب کا۔سخت سردی کا موسم تھا۔اور آپ کے پاس نہ کوٹ تھا نہ کمبل۔صرف اوپر نیچے دو قمیصیں پہن رکھی تھیں کہ گاڑی میں سوار تھے۔ایک معذور بوڑھا ننگے بدن کانپتا ہوا نظر آیا۔اسی وقت اپنی ایک قمیص اتار کر اسے پہنا دی۔ایک سکھ دوست بھی ساتھ سفر کر رہا تھا وہ یہ دیکھ کر کہنے لگا ” بھائیا جی بہن تہاڈا تے بیڑا پار ہو جائے گا، آپاں