خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 345 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 345

$2003 345 خطبات مسرور کی طرف رجوع کرو۔اور اب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت راشدہ کا قیام ہو چکا ہے اور خلیفہ وقت تک پہنچو۔جس کا فیصلہ ہمیشہ معروف فیصلہ ہی ہوگا انشاء اللہ۔اور اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کے مطابق ہی ہوگا۔تو جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ تمہیں خوشخبری ہو کہ اب تم ہمیشہ معروف فیصلوں کے نیچے ہی ہو۔کوئی ایسا فیصلہ انشاء اللہ تمہارے لئے نہیں ہے جو غیر معروف ہو۔اس کے بعد اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر، آپ کی بیعت کر کے ، آپ سے ان دس شرائط پر عہد بیعت باندھ کر ان شرائط پر عمل بھی کیا گیا، اطاعت کا نمونہ بھی دکھایا گیا یا صرف زبانی جمع خرچ ہی رہا کہ ہم اس شرائط پر آپ سے بیعت کرتے ہیں۔اس کے لئے میں نے چند نمونے لئے ہیں جن سے پتہ چلے کہ بیعت کرنے والوں نے اپنے اندر کیا روحانی تبدیلیاں کیں اور کیا روحانی انقلابات آئے۔اور یہ تبدیلیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی اور اس زمانہ میں بھی ہمیں نظر آتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: میں حلفاً کہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔(سیرت المهدى جلد اول - صفحه ١٤٦ تو ایک شرط یہ تھی کہ شرک سے اجتناب کریں گے۔صرف ہمارے مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی ایسے اعلیٰ معیار قائم کر گئی ہیں اور ایسے اعلیٰ نمونے دکھائے ہیں کہ ان کو دیکھ کر دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے کہ کیا انقلاب آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے دعا نکلتی ہے۔ایک واقعہ ہے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ کا نمونہ کہ آپ کو کس طرح شرک سے نفرت تھی۔کہتے ہیں کہ آپ کے بچے اکثر وفات پا جاتے تھے۔ایک دفعہ آپ کا ایک بچہ بیمار ہوا۔بچے کا علاج کیا گیا۔ایک آدمی تعویذ دے گیا۔اور ایک عورت نے یہ تعویذ بچے کے گلے میں ڈالنا چاہا۔لیکن بچے کی والدہ نے تعویذ چھین کر چولہے کی آگ میں پھینک دیا اور کہا کہ