خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 344
$2003 344 خطبات مسرور ہیں جن کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔دوسرے لفظوں میں طاعت در معروف کے زمرے میں یہی باتیں آتی ہیں۔تو نبی نے یا کسی خلیفہ نے تمہارے سے خلاف احکام الہی اور خلاف عقل تو کام نہیں کروانے۔یہ تو نہیں کہنا کہ تم آگ میں کود جاؤ اور سمند میں چھلانگ لگا دو۔گزشتہ خطبہ میں ایک حدیث میں میں نے بیان کیا تھا کہ امیر نے کہا کہ آگ میں کود جاؤ۔تو اس کی اور روایت ملی ہے جس میں مزید وضاحت ہوتی ہے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علقمہ بن مُجوّز کو ایک غزوہ کے لئے روانہ کیا جب وہ اپنے غزوہ کی مقررہ جگہ کے قریب پہنچے یا ابھی وہ رستہ ہی میں تھے کہ ان سے فوج کے ایک دستہ نے اجازت طلب کی۔چنانچہ انہوں نے ان کو اجازت دے دی اور ان پر عبداللہ بن حذافہ بن قیس اسبھی کو امیر مقرر کر دیا۔کہتے ہیں میں بھی اس کے ساتھ غزوہ پر جانے والوں میں سے تھا۔پس جب کہ ابھی وہ رستہ میں ہی تھے تو ان لوگوں نے آگ سینکنے یا کھانا پکانے کے لئے آگ جلائی تو عبداللہ نے ( جو امیر مقرر ہوئے تھے اور جن کی طبیعت مزاحیہ تھی ) کہا کیا تم پر میری بات سن کر اس کی اطاعت فرض نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں؟ اس پر عبداللہ بن حذافہ نے کہا کیا میں تم کو جو بھی حکم دوں گا تم اس کو بجالاؤ گے؟ انہوں نے کہا۔ہاں ہم بجالائیں گے۔اس پر عبد اللہ بن حذافہ نے کہا میں تمہیں تا کیدا کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود پڑو۔اس پر کچھ لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کی تیاری کرنے لگے۔پھر جب عبد اللہ بن حذافہ نے دیکھا کہ یہ تو سچ مچ آگ میں کودنے لگے ہیں تو عبداللہ بن حذافہ نے کہا اپنے آپ کو ( آگ میں ڈالنے سے) روکو۔( خود ہی یہ کہہ بھی دیا جب دیکھا کہ لوگ سنجیدہ ہو رہے ہیں )۔کہتے ہیں پھر جب ہم اس غزوہ سے واپس آگئے تو صحابہ نے اس واقعہ کا ذکر نبی ﷺ سے کر دیا۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امراء میں سے جو شخص تم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو۔(سنن ابن ماجه كتاب الجهاد باب لاطاعة في معصية الله) تو واضح ہو کہ نبی یا خلیفہ وقت کبھی بھی مذاق میں بھی یہ بات نہیں کر سکتا۔تو اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم کسی واضح حکم کی خلاف ورزی تم امیر کی طرف سے دیکھو تو پھر اللہ اور رسول