خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 341
$2003 341 خطبات مسرور معروف ہی ہوگا۔اور نبی کبھی اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف شریعت کے احکامات کے خلاف کر ہی نہیں سکتا۔وہ تو اسی کام پر مامور کیا گیا ہے۔تو جس کام کے لئے مامور کیا گیا ہے، اس کے خلاف کیسے چل سکتا ہے۔یہ تمہارے لئے خوشخبری ہے کہ تم نے نبی کو مان کر ، مامور کو مان کر، اس کی جماعت میں شامل ہو کر اپنے آپ کو محفوظ کر لیا ہے ہم محفوظ ہوگئے ہو کہ تمہارے لئے اب کوئی غیر معروف حکم ہے ہی نہیں۔جو بھی حکم ہے اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک اور غلطی ہے وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کا موں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں طاعت نہ کریں گے۔یہ لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی آیا ہے وَلاَ يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوفٍ (الممتحنة: (۱۳) اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنالی ہے۔اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھا ہے۔اس میں ایک ستر ہے۔میں تم میں سے کسی پر ہرگز بدظن نہیں۔میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا تا تم میں سے کسی کو اندر ہی اندر دھو کہ نہ لگ جائے“۔(خطبه عيد الفطر فرموده ۱۵ / اکتوبر ۹ ۱۹۰۹ ء خطبات نور صفحه ۴۲۰۔۴۲۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ کی تفسیر کرتے ہوئے۔تحریر فرماتے ہیں۔یہ نبی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں اور ان باتوں سے منع کرتا ہے جن سے عقل بھی منع کرتی ہے۔اور پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور نا پاک کو حرام ٹھہراتا ہے۔اور قوموں کے سر پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں۔اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں سیدھی نہیں ہو سکتی تھیں۔پس جولوگ اس پر ایمان لائیں گے اور اپنی شمولیت کے ساتھ اس کو قوت دیں گے اور اس کی مدد کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے۔براهین احمدیه حصه پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ٤٢٠) تو جب نبی اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرتا ہے، وہی احکامات دیتا ہے جن کو عقل