خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 340
خطبات مس $2003 340 تشھد وتعوذ کے بعد درج ذیل آیت قرآنیہ تلاوت فرمائی يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَ كَ الْمُؤْمِنتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِيْنَ بِبُهْتَانِ يَفْتَرِيْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوْفِ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْلَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُوْرٌ رَّحِيمُ (الممتحنه : ١٣) گزشتہ خطبہ میں شرائط بیعت کی دسویں اور آخری شرط کے بارہ میں بیان کیا تھا لیکن طاعت در معروف کے بارہ میں مزید کچھ وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں عورتوں سے اس بات پر عہد بیعت لینے کی تاکید ہے کہ شرک نہیں کریں گی ، چوری نہیں کریں گی ، زنا نہیں کریں گی ، اولاد کو قتل نہیں کریں گی ، اولاد کی تربیت کا خیال رکھیں گی ،جھوٹا الزام کسی پر نہیں لگائیں گی اور معروف امور میں نافرمانی نہیں کریں گی۔تو یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا نبی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوتا ہے کیا وہ بھی ایسے احکامات دے سکتا ہے جو غیر معروف ہوں۔اور اگر نبی کر سکتا ہے تو ظاہر ہے پھر خلفاء کے لئے بھی یہی ہوگا کہ وہ بھی ایسے احکامات دے سکتے ہیں جو غیر معروف ہوں۔اس بارہ میں واضح ہو کہ نبی کبھی ایسے احکامات دے ہی نہیں سکتا۔نبی جو کہے گا معروف ہی کہے گا۔اس کے علاوہ سوال ہی نہیں کہ کچھ کہے۔اس لئے قرآن شریف میں کئی مقامات پر یہ حکم ہے کہ اللہ اور رسول کے حکموں کی اطاعت کرنی ہے، انہیں بجالانا ہے۔کہیں نہیں لکھا کہ جو معروف حکم ہوں اس کی اطاعت کرنی ہے۔تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دو مختلف حکم کیوں ہیں۔یہ اصل میں دو مختلف حکم نہیں ہیں، سمجھنے میں غلطی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ نبی کا جو بھی حکم ہوگا