خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 332

$2003 332 خطبات مسرور توڑنا چاہے تا تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرے تو اسے قتل کر دو۔یعنی اس سے قطع تعلق کرو اور اس کی بات نہ مانو۔(اس کے احکامات کو بالکل سنی ان سنی کر دو )۔(مسلم کتاب الاماره با ب حكم من فرق امر المسلمين هو مجتمع صلى الله حضرت عبادہ بن صامت سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت اس نکتہ پر کی کہ سنیں گے اور اطاعت کریں گے خواہ ہمیں پسند ہو یا نا پسند۔اور یہ کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں کسی امر کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے ، حق پر قائم رہیں گے یا حق بات ہی کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔(مسلم كتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء) حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اپنا ہا تھ کھینچا وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حالت میں ملے گا کہ نہ اس کے پاس کوئی دلیل ہوگی اور نہ عذر۔اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے امام وقت کی بیعت نہیں کی تھی تو وہ جاہلیت اور گمراہی کی موت مرا۔(مسلم کتاب الامارة باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين) پس آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ نے امام وقت کو مانا اور اس کی بیعت میں شامل ہوئے۔اب خالصت اللہ آپ نے اس کی ہی اطاعت کرنی ہے، اس کے تمام حکموں کو بجالا نا ہے ورنہ پھر خدا تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکلنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اطاعت کے اعلیٰ معیار پر قائم فرمائے اور یہ اعلیٰ معیار کس طرح قائم کئے جائیں۔یہ معیار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کر کے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتا ہے۔لیکن جو محض نام لکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا تو یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں ہے محض نام لکھوانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آجائے گا کہ وہ الگ ہو جائے گا۔اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کر وجودی جاتی ہے۔