خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 296
296 $2003 خطبات مسرور تو دیکھیں اس میں صحابہ کی نیکیاں، کہ ایک تو وہ یہ تڑپ دل میں رکھے ہوئے ہیں کہ میرا دوسرا مومن بھائی بھی ان فضلوں سے محروم نہ رہ جائے جو اللہ تعالیٰ مجھے پر کر رہا ہے۔اور پھر یہ تڑپ کہ صلى الله میں زیادہ سے زیادہ مومنوں تک یہ بات پہنچاؤں کہ میرے پیارے نبی ﷺ پر درود بھیجیں۔تو یہ ہیں مومنوں کے طریق۔لیکن یاد رکھیں کہ دنیاوی دکھاوے کے لئے ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے، محفلیں جما کر ، طوطے کی طرح رٹ لگاتے ہوئے بغیر غور کے درود پڑھنے کا طریق صحیح نہیں ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر درود بھیجو تو بہت اچھی طرح سے بھیجا کرو۔تمہیں کیا معلوم کہ ہو سکتا ہے وہ آنحضرت ﷺ کے حضور پیش کیا جا تا ہو۔راوی کہتا ہے کہ سامعین نے ان سے کہا آپ ہمیں اس کا طریقہ بتائیں۔انہوں نے کہا یوں کہا کرو۔اے اللہ ! اپنی جناب سے درود بھیج ، رحمت اور برکات نازل فرما، سید المرسلین اور متقیوں کے امام اور خاتم النبین محمد اپنے بندے اور اپنے رسول پر جو ہر نیکی کے میدان کے پیشوا اور ہر نیکی کی طرف لے جانے والے ہیں اور رسول رحمت ہیں۔اے اللہ ! تو حضرت محمد ﷺ کو ایسے مقام پر فائز فرما جس پر پہلے اور پچھلے سب رشک کو کریں۔صله الله۔(سنن ابن ماجه كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها باب الصلوة على النبي ) پھر ایک حدیث ہے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا : جو مسلمان بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے۔جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے اس وقت تک فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔اب چاہے تو اس میں کمی کرے، چاہے تو اس کو زیادہ کرے۔صلى الله۔(سنن ابن ماجه كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها باب الصلوة على النبي ) تو یہ دیکھیں کیا طریقے ہمیں سمجھائے فضلوں کو حاصل کرنے کے۔پھر ایک روایت آتی ہے۔روای بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے حضرت رسول کریم اللہ کی خدمت میں عرض کی کہ میں اپنی دعا کے وقت ایک بڑا حصہ حضور پر درود بھیجنے میں صرف کرتا ہوں۔بہتر ہو کہ حضور ارشاد فرما ئیں کہ میں اپنی دعا کے وقت میں سے کس قدر حصہ حضور پر درود بھیجنے میں مخصوص کر دوں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جتنا چاہو۔میں نے عرض کی کیا ایک چوتھائی؟