خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 295

295 $2003 خطبات مسرور کے سامان پیدا کرتا چلا جاؤں گا۔تو یہ بھی ایک احسان ہے آپ ﷺ کا کہ آپ نے اخروی نجات کے حصول کا طریق بھی ہمیں سکھا دیا۔حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ دُعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہر جاتی ہے اور جب تک اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجے اس میں سے کوئی حصہ بھی ( خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے اوپر نہیں جاتا )۔(ترمذی كتاب الصلاة باب ما جاء في فضل الصلاة على النبي) تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے اس حدیث نے مزید واضح کیا کہ اگر تم دعاؤں کی قبولیت چاہتے ہو تو ایک دلی جوش اور محبت کے ساتھ جس سے بڑھ کر محبت کسی مومن کو کسی دوسرے شخص سے نہیں ہوسکتی اور نہیں ہونی چاہئے ، آنحضرت می ﷺ پر درود کے ذریعہ سے اپنے مولا کے حضور پیش کرو تو صلى الله تمہاری ساری دعائیں قابل قبول ہوں گی اور راستے میں بکھر نہیں جائیں گی۔ایک روایت ہے۔عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے کعب بن عجرہ ملے اور کہنے لگے کیا میں آنحضرت ﷺ سے سنی ہوئی ایک بات بطور ہدیہ تمہیں نہ پہنچاؤں؟ میں نے کہا آپ ضرور مجھے یہ ہدیہ دیں۔انہوں نے کہا ہم لوگوں نے ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ لوگوں یعنی آپ کے گھر کے ساتھ تعلق رکھنے والے تمام لوگوں پر درود کس طرح بھیجا کریں؟ سلام بھیجنے کا طریق تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا۔مگر درود بھیجنے کا طریق ہم نہیں جانتے۔تو آپ نے فرمایا یوں کہا کرو : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ وَبَارِكُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مجيد۔صلى الله۔(ترمذی کتاب الصلاة باب ماجاء في صفة الصلاة على النبي عد و سلم اے اللہ محمد علی پرمحمد کی آل پر درود بھیج جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم اور ابراہیم کی آل پر درود بھیجا۔تو بہت ہی حمد والا اور بزرگی والا ہے۔اے اللہ ! محمد پر اور محمد کی آل پر برکتیں بھیج جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم پر اور حضرت ابراہیم کی آل پر برکتیں بھیجیں۔تو بہت ہی حمد والا اور بزرگی والا ہے۔