خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 289
289 $2003 خطبات مسرور ہیں اس لئے درود بھیجنے والوں کو کہ جو ذاتی محبت سے آنحضرت ﷺ کے لئے برکت چاہتے ہیں ، بے انتہا برکتوں سے بقدر اپنے جوش کے حصہ ملتا ہے۔مگر بغیر روحانی جوش اور ذاتی محبت کے فیضان بہت ہی کم ظاہر ہوتا ہے۔“ (مكتوبات احمدیه جلد اول صفحه ٢٤ - ٢٥) اس اقتباس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں جو باتیں سمجھائی ہیں جن سے درود شریف پڑھنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔فرمایا پہلے تو تم سب یہ یاد رکھو کہ آنحضرت ﷺ کو تمہاری دعاؤں کی ضرورت نہیں۔یہ نہ سمجھو کہ تمہارے درود پڑھنے سے ہی آنحضرت ﷺ کا مقام بلند ہو رہا ہے۔وہ تو پہلے ہی ایک ایسی ہستی ہے جو خدا تعالیٰ کو بہت پیاری ہے۔فرمایا کہ اس میں گہرا راز ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے سے ایک ذاتی تعلق اور محبت کی وجہ سے اس دوسرے شخص کے لئے رحمت اور برکت چاہتا ہے تو وہ اس کے وجود کا ہی حصہ بن جاتا ہے یعنی وہ محبت اور تعلق میں ایک ہو جاتے ہیں مثلاً دنیاوی رشتوں میں اب دیکھیں مثال دیتا ہوں ، ماں بچے کی محبت ہے، بعض دفعہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچہ جب چلنا شروع کرتا ہے، ذرا سی ہوش اس کو آتی ہے، اگر اس کو کوئی کھانے کی چیز ملے تو وہ بعض دفعہ اس میں ایک چھوٹا سا ٹکڑا جوا کثر ٹکڑے کی بجائے ذرات کی شکل میں ہوتا ہے۔وہ اس پیار اور تعلق کی وجہ سے جو اس بچے کو اپنی ماں سے ہے، اپنی ماں کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔تو اس چھوٹے سے ٹکڑے کی وجہ سے ماں کا پیٹ تو نہیں بھر رہا ہوتا لیکن ایک پیار کا اظہار ہورہا ہوتا ہے اور اس حرکت کی وجہ سے ماں کو بھی اس بچے پر اتناہی پیار آتا ہے اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور وہ اس کو پہلے سے بڑھ کر اپنے ساتھ چمٹاتی ہے اس کی ایک چھوٹی سی معصوم سی حرکت پر، اس کا خیال رکھتی ہے۔تو اس طرح کی مثالیں کم و بیش آپ کو اور بھی دنیاوی تعلقات میں ، دنیاوی رشتوں میں ملتی رہیں گی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اقتباس میں فرمارہے ہیں کہ جب محبت میں ایک ہی وجود بن جائیں تو جو فیض اس کو ملتا ہے اور جو برکتیں اس کو ملتی ہیں، جس کے لئے آپ دعا کر رہے ہوتے ہیں وہی آپ کو بھی مل رہا ہوتا ہے۔فرماتے ہیں: کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے انتہاء رحمتیں اور برکتیں ہیں ، اور بے انتہاء فیض ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر نازل فرمائیں اور فرمارہا ہے اور فرماتا