خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 288
خطبات مس $2003 288 تشھد وتعوذ کے بعد درج ذیل آیت قرآنیہ تلاوت فرمائی انَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِمُوْا تَسْلِيمًا ﴾ (الاحزاب : ۵۷)۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جو درود شریف پڑھنے کی اس قدر تاکید فرمائی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟۔کیا آنحضرت ﷺ کو ہماری دعاؤں کی حاجت ہے۔نہیں ہے۔بلکہ ہمیں یہ طریق سکھایا ہے کہ اے میرے بندو تم جب اپنی حاجات لے کر میرے پاس آؤ ، میرے پاس حاضر ہو تو اپنی دعاؤں کو قبول کروانے اور اپنی حاجات کو پوری کرنے کا اب ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ میرے پیارے نبی ہے کے ذریعہ سے مجھ تک پہنچو۔اگر تم نے یہ وسیلہ اختیار نہ کیا تو پھر تمہاری سب عبادتیں رائیگاں چلی جائیں گی کیونکہ میں نے یہ سب کچھ، یہ سب کا ئنات اپنے اس پیارے نبی کے لئے پیدا کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اگر چہ آنحضرت ﷺ کو کسی دوسرے کی دعا کی حاجت نہیں۔لیکن اس میں ایک نہایت عمیق بھید ہے۔جو شخص ذاتی محبت سے کسی کے لئے رحمت اور برکت چاہتا ہے وہ باعث علاقہ ذاتی محبت کے اس شخص کے وجود کی ایک جزو ہو جاتا ہے۔پس جو فیضان شخص مدعولہ پر ہوتا ہے وہی فیضان اس پر ہو جاتا ہے۔اور چونکہ آنحضرت ﷺ پر فیضان حضرت احدیت کے بے انتہا