خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 244

$2003 244 خطبات مسرور ہے تو فرمایا کہ یہ دعا کرنی چاہئے کہ اس کی دستبرد سے بچا کر ہمیں کچی کامیابی اور منزل مقصود تک پہنچا۔پھر آپ فرماتے ہیں: اصل رازق اللہ تعالیٰ ہے۔وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر تو گل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور تو کل کرے میں اس کے لئے آسمان سے برسا تا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ایک دفعہ ہمیں اتفاقاً پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور تو کل پر کبھی کبھی ایسی حالت گزرتی ہے اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو اس ضرورت کے خیال نے ہم کو یہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دعا کریں۔پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جا کر اس نہر کے کنارہ پر دعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے۔جب ہم دعا کر چکے تو دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے : ”دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔تب ہم خوش ہو کر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رخ کیا تا کہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں۔چنانچہ ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالباً وہ روپیہ اسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔(نزول المسيح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۱۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے بلکہ یہ معنے ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خدا تعالیٰ پر چھوڑے اس کا نام تو کل ہے اور اگر وہ تدبیر نہیں کرتا اور صرف تو کل کرتا ہے تو اس کا تو کل پھوکا ہوگا۔(جس کے اندر کچھ نہ ہو) اور اگر نری تدبیر کر کے اس پر بھروسہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ پر تو کل نہیں ہے تو وہ تدبیر بھی پھوکی (جس کے اندر کچھ نہ