خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 218

218 $2003 خطبات مسرور اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے صبح کے وقت یہ کہا کہ اے اللہ جو بھی نعمت مجھے ملی وہ تیری ہی طرف سے ہے۔تیرا کوئی شریک نہیں اور تمام تعریفیں اور شکر تیرے ہی لئے ہیں۔تو گویا اس نے اپنے دن کا شکر ادا کر دیا۔اور جس نے اسی طرح شام کے وقت دعا کی تو اس نے اپنی رات کا شکر ادا کر دیا۔(سنن أبى داؤد، كتاب الأدب باب ما يقول اذا اصبح) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ اللہ سے یہ دعا سیکھی: اَللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعَظَمُ شُكْرَكَ وَأَكْثِرُ ذِكْرَكَ وَاتَّبِعُ نَصِيْحَتَكَ وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ۔اے میرے اللہ ! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیرے شکر کا حق ادا کر سکوں اور کثرت سے تیرا ذکر کر سکوں اور تیری باتوں پر عمل کر سکوں اور تیرے احکام کی پابندی کرسکوں۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں بکثرت یہ دعا مانگتا ہوں۔(ترمذى كتاب الدعوات باب من ادعية النبى الله عبداللہ بن عمرو روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حمد شکر کا سر چشمہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی حمد نہیں کی اس نے اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ہیں: (مشكوة المصابيح - كتاب الدعوات الفصل الثاني (۲۳۰۷ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض عربی اشعار کا ترجمہ پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے۔”اے وہ ذات جس نے اپنی نعمتوں سے اپنی مخلوق کا احاطہ کیا ہوا ہے ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تعریف کی طاقت نہیں ہے۔مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کر ، اے میری پناہ! اے حزن و کرب کو دور فرمانے والے! میں تو مر جاؤں گا لیکن میری محبت نہیں مرے گی۔( قبر کی مٹی میں بھی تیرے ذکر کے ساتھ ہی میری آواز جانی جائی گی۔میری آنکھ نے تجھ سا (کوئی) محسن نہیں دیکھا۔اے احسانات میں وسعت پیدا کرنے والے اور اے نعمتوں والے! جب میں نے تیرے لطف کا کمال اور بخششیں دیکھیں تو مصیبت دور ہو گئی اور (اب) میں اپنی مصیبت کو محسوس ہی نہیں کرتا“۔(منن الرحمن، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ١٦٩) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : بندہ جب اپنے ارادوں سے علیحدہ ہو