خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 217
$2003 217 خطبات مسرور مضبوطی پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے اس نے ہم پر رحم فرمایا اور احمدیت کے قافلہ کو پھر سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں کر دیا۔اس پر ہر احمدی نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کے جذبات سے لبریز ہوکر اپنے سر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا دے۔اپنی وفاؤں کو انتہا تک پہنچایا اور خلافت کے قیام کے لئے اپنے وعدوں کو پورا کیا۔اس خدا نے بھی جماعت کی اس شکر گزاری کے جذبہ کی قدر کرتے ہوئے جماعت پر اپنے فضلوں کی بارش اور تیز کر دی۔اور یہ بارش کوئی رکنے والی بارش نہیں۔اور یہ بارش انشاء اللہ بر سے گی اور برستی رہے گی کیونکہ یہ ہمارے رب کا اعلان ہے کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں بڑھاؤں گا۔پس اپنی وفاؤں، اپنی دعاؤں اور اپنے مولا کے حضور اپنے شکر گزاری کے جذبات کے اظہار سے، اس کے فضلوں کی برستی بارش کو کبھی رکنے نہ دیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے پیارے آقا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے اس اسوہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایک روایت ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت معہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں متورم ہو کر پھٹ جاتے۔ایک دفعہ میں نے آپ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ کیوں اتنی تکلیف اٹھاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب قصور معاف فرما دئے ہیں یعنی ہر قسم کی غلطیوں اور لغزشوں سے محفوظ رکھنے کا ذمہ لے لیا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا: کیا میں یہ نہ چاہوں کہ اپنے رب کے فضل واحسان پر اس کا شکر گزار بندہ بنوں۔(بخاری کتاب التفسير سورة الفتحباب قوله ليغفر لك الله تعالى۔۔۔۔۔۔۔۔یہ شکر و احسان کے جذبات، اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں ، اس کی حمد سے اپنی زبانیں تر رکھنا صرف جماعتی طور پر فضلوں اور رحمتوں کے نازل ہونے کے لئے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہے ہر شخص سے جس کی انفرادی زندگی میں بھی ، جس کی خاندانی زندگی میں بھی اس شکر کے طفیل ہر مومن پر اپنے فضلوں کی بارش برساتا ہے اور اپنے فضلوں کا وارث بناتا ہے۔پس ہر شخص کو اپنی بھلائی کے لئے بھی ، اپنی ترقیات کے لئے بھی ، اپنے خاندان کی بھلائی کے لئے بھی ، اپنی نسلوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے بھی شکر نعمت کرتے رہنا چاہئے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن غنام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول