خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 206

$2003 206 خطبات مسرور سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سور ہوں اور اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں۔اور اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں۔بلکہ مجھے چاہئے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے روروکر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے۔اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہئے کہ میں اس سے ٹھٹھا کروں یا چیں بہ جبیں ہوکر تیزی دکھاؤں یا بد نیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں۔کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو۔جب تک وہ اپنے تئیں ہر یک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختیں دُور نہ ہو جائیں۔خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور جُھک کر بات کرنا مقبول الہی ہونے کی علامت ہے، اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصے کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجے کی جوانمردی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں۔۔۔66 (شهادت القرآن، روحانی خزائن جلد ٦ ، صفحه ٣٩٥-٣٩٦) د اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کے مطابق عمل کرنے کی، اپنے آپ کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ۱۹۰۳ء کے بعض الہامات جن میں جماعت کی ترقی کی خوشخبریاں ہیں پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے ہمیں ترقیات کے نظارے دکھا بھی رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی دکھائے گا۔ہر الہام اور پیشگوئی اپنے وقت پر پوری بھی ہوئی ہے جن سے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے نشان دیکھے ہیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ ہوں گی۔یہ الہی تقدیر ہے اور بہر حال اس نے غالب آنا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ حضرت اقدس مسیح موعود کے غلاموں کے ذریعہ سے ہی اسلام کا غلبہ تمام دنیا میں ہونا ہے۔پس ان خوشخبریوں کے ساتھ کمر ہمت کس لیں اور دعاؤں پر بھی بہت زیادہ زور دیں۔بہت بڑی ذمہ داری ہے ہم پر۔