خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 187
$2003 187 خطبات مسرور کارکنان بھی اگر مہمان کا غصہ دیکھیں تو انتہائی نرمی سے معذرت کر کے تکلیف دور کرنے کی کوشش کریں لیکن یا درکھیں کہ مہمان سے سختی سے بات نہیں کرنی۔پھر ہے پڑوسی کی عزت۔یہاں اس ماحول میں چند دنوں کے لئے جو بھی لوگ ، مہمان آ رہے ہیں، قیام گاہوں میں اکٹھے رہ رہے ہیں۔وہ ایک دوسرے کے پڑوسی بن جاتے ہیں۔تو وسیع اور عارضی انتظام ہونے کی وجہ سے تمام سہولتیں جیسے کہ میں نے عرض کیا ہے میسر نہیں آسکتیں۔تو کسی قسم کی اگر اونچ نیچ ہو جائے۔بعض دفعہ اکٹھے جب رہ رہے ہوں تو مثلاً کھانے کے وقت میں ہی یا صبح کے وقت غسل خانے جانا ہو تھوڑی تعداد میں ٹائلٹس وغیرہ ہوتی ہیں اس وقت بھی یا اور بعض باتیں ہوتی ہیں ایسی تو اگر اونچ نیچ ہو جائے تو آپس میں مہمان جو ہیں وہ یہاں ایک دوسرے کے پڑوسی کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں اس لئے ایک دوسرے کا احترام کریں، اور عزت کریں اور اگر کسی سے کوئی اونچ نیچ ہو بھی جائے تو شکوہ زبان پر نہ لائیں۔اسی طرح جہاں مہمانوں اور کارکنوں کے لئے بھی ہے کہ مہمانوں سے عزت سے پیش آئیں۔اپنے ساتھی کارکنوں سے بھی عزت اور احترام سے پیش آئیں۔آپس میں محبت سے سارے کام اور ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔پھر تیسری بات تو بہر حال ہر کارکن پر لازم ہے۔اوپر میں ذکر بھی کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ہیں چاہے چھوٹا ہے یا بڑا ہے ،امیر ہے یا غریب ہے،سب سے ایک طرح یکساں احترام سے پیش آئیں۔ان کی عزت کریں اور ان کی ضرورت کو جس حد تک انتظام اجازت دیتا ہے پوری کرنے کی کوشش کریں۔اگر نہیں کر سکتے تو اپنے سے بالا افسر تک پہنچائیں لیکن مہمان کا احترام اور اس سے آرام سے بات کرنا بہر حال ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ کونسا اسلام سب سے بہتر ہے۔فرمایا ( ضرورت مندوں کو ) کھانا کھلا ؤ اور ہر اس شخص کو جسے تم جانتے ہو یا نہیں جانتے سلام کہو۔(صحيح البخارى كتاب الايمان، باب واطعام من (الاسلام اس حدیث میں ایک حسین معاشرہ کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ کھانا کھلا ؤ۔دوسرے ہر شخص کو جسے تم جانتے ہو یا نہیں جانتے سلام کرو۔تو جلسہ کے دنوں میں جہاں ایک دینی ماحول ہوگا، دعاؤں