خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 186
$2003 186 خطبات مسرور چراغ جلایا اور بچوں کو بھوکا ہی سلا دیا۔پھر چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھی اور چراغ بجھا دیا۔اور پھر دونوں مہمان کے ساتھ بیٹھے بظاہر کھانا کھانے کی آوازیں نکالتے اور چٹخارے لیتے رہے تا کہ مہمان سمجھے کہ میزبان بھی میرے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا ہے۔اس طرح مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور وہ خود بھو کے سور ہے۔صبح جب وہ انصاری حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے رات والے عمل سے تو اللہ تعالیٰ بھی ہنس دیا ہے۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ وہ خودضرورت مند ہوتے ہیں۔اور جو نفس کے بخل سے بچائے گئے وہی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔(بخاری، کتاب المناقب قول الله باب و يوثرون على انفسهم۔۔۔۔۔۔۔اب دیکھیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس خاندان کی اتنی بڑی قربانی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر اپنے پیارے نبی ﷺ کو بھی اس کی اطلاع دی۔تو یہ ہیں وہ مہمان نوازی کے معیار جو اسلامی معاشرہ میں نظر آنے چاہئیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی معاشرہ میں نظر آتے ہیں لیکن کیونکہ یاد دہانی اور نصیحت کا بھی حکم ہے اس لئے یاددہانی کروائی جاتی ہے۔اب میں چند مزید احادیث کی روشنی میں مہمانوں اور میزبانوں دونوں کو ان کی ذمہ داریوں کے بارہ میں بتاؤں گا۔حدیث ہے کہ حضرت ابو ہریر کا آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب الحث على اكرام۔۔۔۔۔۔۔۔اس میں تین باتیں بتائی گئی ہیں۔پہلی دو تو جلسے پر آنے والے مہمانوں اور میزبانوں دونوں کے لئے ہیں جبکہ تیسری صرف میزبان کے لئے ہے۔خلاصہ بتا تا ہوں۔فرمایا کہ اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔اب مہمان بھی اگر کہیں کو تا ہی دیکھیں تو نرمی سے توجہ دلا دیں۔کسی قسم کا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اتنے وسیع انتظامات ہوتے ہیں۔تھوڑی بہت کمیاں رہ جاتی ہیں وہ برداشت کرنا چاہئے اور صرف نظر کرنا چاہئے۔اور غصہ کو دبانے کا بھی ایک ثواب ہے۔اسی طرح